انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 410

انوار العلوم جلد 24 410 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب عجیب بات نہیں ہے لیکن وجہ کیا ہے کہ احمدیت کو ترک کرنے کا خیال ان دنوں میں پیدا ہونا شروع ہوا جن دنوں میں چاروں طرف سے احمدیت کے خلاف قتل اور غارت کا بازار گرم تھا۔ہم مثال کے طور پر راولپنڈی، سیالکوٹ، اوکاڑہ، ملتان، گوجر انوالہ، شاہدرہ، لاہور اور لائلپور کے واقعات کو پیش کرتے ہیں یہ عجیب بات ہے کہ انہی فسادات کے ایام میں جماعت اسلامی جو امن و امان کے قیام کی واحد ٹھیکیدار اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے اس کے سیکرٹری نے مندرجہ ذیل خط امام جماعت احمدیہ کو لکھا۔امیر جماعت اسلامی تاریخ 9 مارچ 1953ء شمارہ نمبر 1039 مکر می۔السّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ عَلَى الْهُدَى مندرجہ ذیل حضرات نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا ہے انہوں نے تحریری طور پر دفتر ہذا کو اطلاع دی ہے کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا اور نہ ہی کسی ڈر اور خوف سے انہوں نے توبہ کی ہے بلکہ برضاور غبت اور پوری طرح سمجھ کر اسلام قبول ہے۔1 فضل الرحمن صاحب سپر وائزر H۔O۔مکان نمبر 6/543 کالج روڈ راولپنڈی 2 چودھری احمد علی خان حفظ الرحمن صاحب 4 عطاء الرحمن صاحب سمیع الرحمن صاحب 6 مطیع الرحمن صاحب 7 ساجده خانم بنت فضل الرحمن صاحب // || // || // // || // || 8 ممتاز بیگم زوجہ فضل الرحمن صاحب 9 سردار بیگم زوجہ احمد علی خانصاحب 10 غیاث بیگم بنت احمد علی خانصاحب ( دستخط) صدیق الحسن گیلانی قیم حلقہ راولپنڈی