انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 402

انوار العلوم جلد 24 402 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب دیئے جاسکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ فساد کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ لوگ جن کا فساد میں فائدہ ہوتا ہے لیکن اگر یہ ظاہر ہو جائے کہ وہ فساد میں شامل ہیں تو وہ اس فائدے سے محروم ہو جاتے ہیں۔دوسرے وہ لوگ فساد کروانا چاہتے ہیں اور فساد کروانے کی عزت خود حاصل کرنا چاہتے ہیں ان لوگوں کا فائدہ اسی میں ہوتا ہے کہ ان کا نام آگے آئے اور لوگوں کو معلوم ہو کہ وہ اس کام میں حصہ لے رہے ہیں۔اگر گورنمنٹ کا کوئی براہ راست دخل ان فسادات میں تھا تو گورنمنٹ پہلے گروہ میں آجاتی ہے۔اگر کسی وقت بھی یہ ظاہر ہو جاتا کہ وہ ان فسادات کو انگیخت کر رہی ہے تو جس غرض سے وہ ان فسادات میں حصہ لے سکتی تھی وہ اس غرض سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہو جاتی تھی۔اس لئے لازماً اگر حکومت بحیثیت حکومت یا اسکے کچھ افسران فسادات میں حصہ لینا چاہتے تھے تو وہ یقیناً اسے مخفی رکھتے تھے اور جو بات مخفی رکھی جاتی ہے اس کا پتہ لگانا آسان نہیں ہوتا۔فسادات کے دنوں میں ہماری جماعت کو مختلف قسم کی رپورٹیں ملتی تھیں کبھی ایک افسر کے متعلق کبھی دوسرے افسر کے متعلق، کبھی صوبہ جاتی حکومت کے متعلق کبھی مرکزی حکومت کے متعلق۔کبھی ہمیں یہ خیال پیدا ہو تا تھا کہ فلاں افسر یا صوبہ جاتی حکومت اس کی ذمہ دار ہے کبھی ایک دوسری رپورٹ کی بناء پر ہم یہ سمجھتے تھے کہ کوئی دوسرا افسر اور مرکزی حکومت اس کی ذمہ دار ہے (چونکہ ہمارے آدمی حکومت کے ذمہ دار عہدوں پر فائز نہیں تھے اس لئے) ہمیں حقیقت حال کا صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے ہماری جماعت کا طریقہ یہی تھا کہ ہر قسم کے افسروں سے تعاون کرنا اور بعض دفعہ یہ خیال کرتے ہوئے بھی کہ وہ ان فسادات میں حصہ لیتے ہیں ان کے پاس اپنی شکایت لے جانا اور اگر کسی کے منہ سے کوئی بات انصاف کی نکل جائے تو اس کی تعریف کر دینا تا کہ شاید اسی تعریف کے ذریعہ سے آئندہ اس کے شر سے نجات مل جائے۔ہماری مثال تو اُس جانور کی سی تھی جس کے پیچھے چارں طرف سے شکاری کتے لگ جاتے ہیں اور وہ مختلف طریقوں سے اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔پس ہم معین صورت میں کسی شخص پر الزام نہیں لگا سکتے۔مارشل لاء سے پہلے بھی ہم پر سختیاں