انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 300

انوار العلوم جلد 24 300 سیر روحانی (7) حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ڈپٹی صاحب تھے جو تہجد بڑی با قاعدگی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے اور رشوت کے لئے انہوں نے نو کروں کو کہا ہؤا تھا کہ اگر کوئی رشوت لایا کرے تو تہجد کے وقت اُس کو لانے کے لئے کہا کرو دن کو لوگوں کو پتہ لگ جاتا ہے۔غرض انہوں نے تہجد با قاعدہ پڑھنی اور نوکر نے بھی اُس کو با قاعدہ لا کر بٹھا دینا۔جب انہوں نے سلام پھیر نا تو اُس نے کہنا جناب میر افلاں مقدمہ ہے۔وہ بڑے غصے سے کہتے او خبیث بے ایمان! تو میرا ایمان خراب کرتا ہے۔تجھے پتہ نہیں کہ یہ رشوت ہے جو حرام ہے اور اسلام میں منع ہے۔وہ کہتا حضور ! آپ ہی میرے ماں باپ ہیں اگر میرے بچوں کو اور بھائی کو نہیں بچائیں گے تو اور کون بچائے گا۔اس پر وہ کہتے تو بڑا بے ایمان ہے تو لوگوں کے ایمان خراب کرتا ہے۔وہ کہتا جی میں آپ کے سوا کس کے پاس گیا ہوں۔وہ کہتے او خبیث ! رکھ مصلی کے نیچے اور جادُور ہو جا میرے آگے سے۔پس مصلی کے نیچے رشوت رکھ لینی اور سمجھ لینا کہ اب مصلی کی برکت سے یہ مال پاک ہو گیا ہے اور پھر اُٹھا کے رکھ لینا۔تو اکثر لوگ اخلاق اور مذہب کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اخلاقی کمزوریاں ہوں تو اس سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔اگر نماز ہم نے پڑھ لی تو اس کے بعد اگر کسی کو تھپڑ مار لیا یا کسی کا روپیہ لوٹ لیا یا کسی سے رشوت لے لی یا کسی پر ظلم کر لیا، کسی پر سختی کرلی تو کیا ہے ہم نے نماز تو پڑھ لی ہے۔اللہ تعالیٰ کو کافی رشوت دے دی ہے اللہ میاں اور ہم سے کیا چاہتا ہے۔مگر اسلام اس پر زور دیتا ہے کہ خواہ سیاسی امور ہوں خواہ اقتصادی اپنے محرکات کے لحاظ سے سب کے سب دین کا ہی حصہ ہوتے ہیں اور دین کو بڑھاتے یا کم کرتے ہیں عبادت کو اچھا یا خراب بناتے ہیں اور قومی کام بھی اسی طرح اخلاق کی حکومت کے نیچے ہیں جس طرح انفرادی احکام۔اخلاق کا دائرہ صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا اصل ہے قومیں اور حکومتیں بھی اس میں شامل ہیں! جس میں اسلام دوسری قوموں سے بالکل ممتاز ہے اور اسی امر پر عمل کرنے سے دُنیا میں صلح اور امان