انوارالعلوم (جلد 24) — Page 279
انوار العلوم جلد 24 279 سیر روحانی (7) (3) لیکن پھر بھی نتیجہ قطعی نہ ہو تا تھا۔بعض دفعہ باوجود اس کے کہ دوسرا فریق چھوٹا اور کمزور ہو تا تھا اس وجہ سے کہ وہ مظلوم ہو تا تھا دوسری زبر دست طاقتیں کمزور کی مدد کو آجاتیں اور ساری نمائش دھری کی دھری رہ جاتی۔نوبت خانوں کی بعض اور خامیاں (4) چوتھی بات میں نے یہ دیکھی کہ یہ نوبت خانے صرف دنیوی کشمکش کیلئے بجائے جاتے تھے اخلاقی اور روحانی قدروں کے بچانے کی اُس میں کوئی صورت نہیں ہوتی تھی۔لڑائیاں محض دنیوی فوائد اور دنیوی اغراض کے لئے ہوتی تھیں۔(5) میں نے دیکھا کہ یہ نوبت خانے جو بجتے تھے ذاتی اغراض کے لئے بجائے جاتے تھے۔دوسری اقوام اور دوسرے مذاہب کے حقوق کا بالکل لحاظ نہ ہو تا تھا اور نفسانیت کے علاوہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو تا تھا۔(6) میں نے دیکھا کہ اگر واقع میں کوئی خرابی بھی ان حملوں کا باعث ہوتی تھی یعنی واقع میں اُس قوم نے کوئی ظلم کیا ہو تا تھا تو فتح کے بعد اس ظلم کی اصلاح نہیں ہوتی تھی صرف اُس کا رنگ بدل جاتا تھا۔فرض کرو ہندوستان کی کسی ریاست نے انگریزوں پر ظلم بھی کیا ہوتا تھا اور اس جنگ کے بعد یہ نہیں ہو تا تھا کہ ظلم مٹ گیا بلکہ یہ ہو تا تھا کہ پہلے انگریزوں پر ظلم ہو تا تھا پھر ہندوستانیوں پر ظلم شروع ہو جاتا تھا۔ظلم بہر حال قائم رہتا تھا۔(7) ان نوبت خانوں سے بعض دفعہ اپنے لوگوں کو ہمت دلانے کیلئے یہ بھی اعلان کئے جاتے تھے کہ مثلاً فرانس لڑائی کا اعلان کرتا تو کہتا انگریز بھی میری مدد کے لئے آرہا ہے فلاں ملک بھی میری مدد کے لئے آرہا ہے۔ایران اعلان کرتا تو کہتا چین کی فوجیں بھی میری مدد کے لئے آرہی ہیں۔ہندوستان کی فوجیں بھی میری مدد کے لئے آرہی ہیں۔افغانستان کی فوجیں بھی میری مدد کے لئے آرہی ہیں۔غرض دنیوی مدد اور تائید پر بڑا بھروسہ ظاہر کیا جاتا گویا اقرار کیا جاتا تھا کہ بغیر ان دُنیا کی تائیدوں کے ہم فتح نہیں پاسکتے۔