انوارالعلوم (جلد 24) — Page 257
انوار العلوم جلد 24 257 سیر روحانی (7) کہ میں نے انہیں پناہ دے دی ہے۔تمہارے ساتھ ان کو پیار ہے بات ہو جائے گی حضرت فاطمہ کہنے لگیں ہمارے ہاں عورتیں ایسے معاملات میں دخل نہیں دیا کرتیں میرا اس معاملہ سے کیا تعلق ہے مردوں سے جا کر کہو۔کہنے لگا اچھا! عور تیں دخل نہیں دیتیں تو حسن اور حسین کو بھیجد و انکو سکھا دو کہ وہ جاکر یہ بات کہہ دیں کہ نانا! ہم نے پناہ دے دی ہے۔حضرت فاطمہ نے کہا ہمارے ہاں دنیا کے تمام کاموں میں بلوغت کی شرط ہوتی ہے۔یہ بچے ہیں ان کو کیا پتہ کہ پناہ کیا ہوتی ہے۔پھر وہ مہاجرین کے پاس گیا انصار کے پاس گیا اور اس میں اس کے دو تین دن لگ گئے آخر اُسے گھبراہٹ پیدا ہونی شروع ہو گئی کہ ہو گا کیا؟ ابوسفیان کا مسجد نبوی میں اعلان آخر وہ سوچ کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دوبارہ گیا اور حضرت علی کو جا کر کہنے لگا میں ساری جگہوں پر گیا ہوں مگر میری کوئی نہیں سنتا۔محمد رسول اللہ سے بات کی وہ کوئی جواب نہیں دیتے۔اب تم مجھے بتاؤ کوئی ترکیب نکل سکتی ہے یا نہیں ؟ قوم کا درد تمہارے اندر بھی ہونا چاہئے۔حضرت علی کہنے لگے یہی تجویز میری سمجھ میں آتی ہے کہ تم مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کر دو کہ میں چونکہ اپنی قوم کا سر دار ہوں اور میں نے دستخط نہیں کئے ہوئے اسلئے میں اپنی طرف سے اُسے اس رنگ میں پختہ کرنے آیا ہوں کہ آج نئے سرے سے معاہدہ کیا جاتا ہے اور اس کی اتنی مدت بھی بڑھاتا ہوں اُس نے کہا۔اس کا کوئی فائدہ ہو گا؟ حضرت علی نے کہا۔بظاہر تو نظر نہیں آتا مگر آخر تم کہتے ہو کہ مجھے کوئی تجویز بتاؤ میں نے تمہیں بتائی ہے تم کر کے دیکھ لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے کہ ابو سفیان وہاں پہنچا اور کھڑے ہو کر کہنے لگا کہ اے مدینہ کے لوگو!سنو ! معاہدہ تم نے ان لوگوں سے کر لیا جن کی ذمہ داری نہیں ہے ذمہ داری میری ہے اور میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا چاہتا ہوں۔جو کچھ میں نے سنا ہے وہ اچھی بات ہے مگر میں چاہتا ہوں معاہدہ کی مدت بھی بڑھ جائے اور میرے دستخط بھی ہو جائیں۔میں اعلان کرتا ہوں کہ معاہدہ آج سے شروع ہوتا ہے اور میری اس پر