انوارالعلوم (جلد 24) — Page 258
انوار العلوم جلد 24 258 سیر روحانی (7) تصدیق ہے اور اتنے سال بڑھا دیئے گئے ہیں۔یہ ایسی احمقانہ بات تھی کہ سارے صحابہ سُن کر ہنس پڑے اور اُس کو سخت ذلت محسوس ہوئی کہ اتنے لوگوں میں میں اتو بن گیا ہوں کیونکہ معاہدہ دونوں فریق سے ہوتا ہے ایک فریق سے کیا ہوتا ہے۔بڑے غصہ سے کہنے لگا اے ابنائے ہاشم ! تم لوگ ہمیشہ ہمارے دشمن رہے۔پھر حضرت علی کو مخاطب کر کے کہنے لگا تم نے مجھے جان کے ذلیل کروایا ہے تم ہمیشہ ہماری دشمنی کرتے ہو اور یہ کہہ کر غصہ میں واپس آگیا۔حضرت ام حبیبہ کی ایمانی غیرت اسی دوران میں اُس کو ایک اور بھی زک اللہ تعالیٰ نے پہنچائی۔اُس کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں یعنی اُم المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا۔جب وہ مدینہ آیا تو اس نے کہا میں بیٹی کو مل آؤں۔جب بیٹی کے پاس گیا تو ان کے پاس ایک فراش 13 پڑا ہوا تھا انہوں نے جلدی سے اس کو لپیٹ کر رکھ لیا۔اُس کی یہ حرکت اس کو عجیب معلوم ہوئی کہنے لگا بیٹی ! یہ فراش تم نے کس لئے تہہ کیا ہے ؟ کیا اس لئے کیا ہے کہ یہ فراش میرے لائق نہیں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے باپ ! بات اصل میں یہ ہے کہ یہ وہ فراش ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے ہیں اور تُو مشرک نجس اور ناپاک ہے۔میں کس طرح برداشت کر سکتی ہوں کہ خدا کے نبی کے فراش کو تو ہاتھ لگائے اِس لئے میں نے اس کو تہہ کیا ہے۔اُس کو حیرت ہوئی کہ میری بیٹی نے یہ کیا کہا ہے۔کہنے لگا۔بیٹی ! معلوم ہوتا ہے جب سے تو مجھ سے جدا ہوئی ہے تیری طبیعت میں کچھ فرق پڑ گیا ہے۔میرا ادب تیرے اندر اس قدر کم تو نہیں ہوا کرتا تھا۔اُس نے کہا۔باپ یہ فرق پڑ گیا ہے کہ جب میں تجھ سے جُدا ہوئی تھی میں کافر تھی اب مجھے خدا نے اسلام دیا ہے ، اب مجھے پتہ ہے کہ رسول اللہ کی کیا حیثیت ہے اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ تو عرب کا سر دار بنا پھرتا ہے اور پتھروں کے آگے ناک رگڑتا پھرتا ہے تیری کیا حیثیت ہے اور اس شخص کی کیا حیثیت ہے جو خدا کا رسول ہے۔غرض وہ مایوس ہو کر وہاں سے آیا۔