انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 248

انوار العلوم جلد 24 248 سیر روحانی (7) کوئی نشان ظاہر کر دے تو وہ جس کی تائید کرے گا اُس کو فائدہ پہنچ جائے گاور نہ ملک میں امن پیدا ہو جائے گا۔پھر ایک شرط یہ بھی کی گئی کہ عرب قبائل میں سے جو چاہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کرلے اور جو چاہے مکہ والوں سے معاہدہ کرلے۔ارد گرد کے جو قبائل تھے اُن کو یہ آفر ( OFFER) کیا گیا کہ تم جس سے چاہو معاہدہ کر لو چنانچہ بنو خزاعہ نے کہا ہم تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کریں گے اُن کی مکہ والوں سے لڑائیاں تھیں اور بنو بکر جو ایک بڑا قبیلہ تھا اور مکہ والوں کا دوست تھا اُس نے کہا کہ ہم مکہ والوں سے معاہدہ کریں گے۔غرض قبائل عرب بھی تقسیم ہو گئے۔اُن میں سے بنو خزاعہ مسلمانوں کے حق میں ہو گئے اور بنو بکر مکہ والوں کے حق میں ہو گئے اور فیصلہ یہ ہوا کہ آپس میں لڑنا نہیں سوائے اِس کے کہ کوئی معاہدہ توڑے۔اگر کوئی معاہدہ توڑ کر اپنے مد مقابل سے یا اُس کے حلیف سے مقابلہ کرے تو پھر اُس سے لڑائی کی اجازت ہو گی اسی طرح کچھ اور شرطیں طے ہوئیں۔10 دشمن کی معاہدہ شکنی کی خبر جب یہ شرطیں طے ہو گئیں تو اب گو یا آئندہ دس سال کیلئے جنگ بند ہو گئی۔اب جنگ کی صرف ایک ہی صورت باقی تھی اور وہ یہ کہ مکہ والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے حلیفوں پر حملہ کر دیں کیونکہ مسلمان کو تو حکم ہے کہ بہر حال تم نے اپنا عہد پورا لرنا ہے۔اس معاہدہ کے بعد نا ممکن تھا کہ مسلمان لڑائی کر سکیں۔صرف ایک ہی صورت باقی تھی کہ مکہ والے محمد رسول اللہ پر حملہ کر دیں یا آپ کے حلیفوں پر حملہ کر دیں اسکے بغیر لڑائی نہیں ہو سکتی تھی۔گویا اب لڑائی کا اختیار دشمن کے ہاتھ میں چلا گیا مومنوں کے ہاتھ میں نہ رہا۔ایسی صورت میں جب لڑائی کا اختیار دشمن کے ہاتھ میں تھا جب یہ پتہ لگنے کی کوئی صورت ہی نہیں تھی کہ دشمن کی فوجیں اسلامی نظام کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گی کیونکہ فیصلہ تو اس نے کرنا تھا مسلمانوں نے نہیں کرنا تھا اُس وقت جب صلح حدیبیہ کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آرہے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو خبر دی گئی کہ دشمن معاہدہ توڑے گا اور ہم تم کو اُن پر قبضہ دیں گے۔گویا پھر قریب ڈیڑھ سال