انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 204

204 انوار العلوم جلد 24 وہ کہتے ہیں کہ کرسچین سویلائزیشن (CHRISTIAN CIVILIZATION)۔اور مسلمان بھی اپنی تقریر میں کہتا ہے کہ کرسچین سویلائزیشن۔حالانکہ کوئی کرسچین سویلائزیشن دُنیا میں نہیں ہے۔اگر کوئی سویلزیشن ہے تو محض اسلام کی سویلزیشن ہے مگر مسلمان اسلامک سویلائزیشن کی موجودگی میں بولے گا تو کہے گا کر سچین سویلائزیشن کیونکہ یورپ کے لوگوں سے اُس نے یہ لفظ سیکھا ہوا ہے۔عیسائیت کے ساتھ اخلاق کا کوئی تعلق نہیں بھلا یہ بھی کوئی تعلیم کہلا سکتی ہے کہ تیرے ایک گال پر اگر کوئی شخص تھپڑ مارے تو تُو دوسرا اُس کی طرف پھیر دے 10 یہ بد اخلاقی اور بزدلی ہے یا بے غیرتی کی تعلیم ہے اخلاقی تعلیم وہ ہے جو قرآن سکھاتا ہے کہ اگر مار کھانے میں فائدہ ہو تو مار کھا اور اگر مارنے میں فائدہ ہو تو مار۔بہر حال جس سے دُنیا کو فائدہ پہنچتا ہو، جس سے لوگوں میں امن قائم ہو تا ہو، جس سے دوسرے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہو وہ کام کر۔نہ مار کھانا اچھا ہے اور نہ مارنا اچھا ہے۔دونوں بڑے ہیں ہاں وہ چیز اچھی ہے جو اپنے موقع پر کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ کہیں شیر اور بھیڑیا میں بحث ہو گئی کہ سردی پوہ میں ہوتی ہے یا ماگھ میں۔خوب لڑے۔شیر کہے پوہ میں ہوتی ہے بھیڑیا کے ماگھ میں ہوتی ہے۔آخر بڑی دیر بحث کرنے کے بعد اُنہوں نے کہا گیدڑ کو بلاؤ اور اُس سے فیصلہ چاہو۔گیدڑ بے چارہ آیا اُس کے لئے وہ بھی مار کھنڈ تھا اور یہ بھی مار کھنڈ۔اس کی بات کہے تو وہ مارے، اُس کی بات کہے تو یہ مارے۔آخر کہنے لگا ٹھہر جاؤ ذرا سوچ لوں۔سوچ سوچ کر کہنے لگا سنو سنگھ سردار بگھیاڑ راجی بگھیاڑراجی نہ پالا پونہ پالا مانگه پالاواجی یعنی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے تو سر دی ہو جاتی ہے ورنہ سردی نہ پوہ میں ہے نہ ماگھ میں۔ربوہ میں تو یہی ہوتا ہے کہ ہوا چلتی ہے تو ہم ٹھٹھر نے لگ جاتے ہیں اور ہوا بند ہوتی ہے تو رات کے وقت دروازے کھول دیتے ہیں۔تو اصل چیز یہی ہے کوئی آدمی