انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxi of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxi

انوار العلوم جلد 24 xi تعار نے اسلوبِ تحریر کو ایک نیا رنگ دیا ہے اس لئے مضامین میں جدت آنی چاہیے۔مضامین علمی اور تحقیقی ہوں۔مجھے افسوس ہے کہ خالص جماعتی مسائل کے علاوہ دیگر اسلامی علوم کی تحقیق و تدوین کے سلسلہ میں ہماری جماعت ابھی بہت پیچھے ہے۔اس طرف توجہ کرنے کی خاص ضرورت ہے۔اس اہم ہدایت کے بعد حضور نے چودہ زبانوں میں تراجم قرآن کی سکیم کا ذکر کر کے مخلصین جماعت کو تحریک جدید کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:۔دنیا کے پاس جو کچھ ہے بے شک وہ بعض جگہ پر امن بھی ہے لیکن اس امن کے ہوتے ہوئے بھی وہ دنیا اندھیرے میں ہے۔جب تک اسلام کا نور ان لوگوں تک نہیں پہنچے گا اُس وقت تک دنیا کا اندھیرا دور نہیں ہو سکتا۔سورج صرف اسلام ہے جو شخص اس سورج کو چڑھانے میں مدد نہیں کرتا وہ دنیا کو ہمیشہ کے لئے تاریکی میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسا انسان کبھی دنیا کا خیر خواہ یا اپنی نسل کا خیر خواہ نہیں کہلا سکتا۔اس وقت تک تحریک جدید کے ذریعہ سے جو تبلیغ ہوئی ہے اس کے نتیجہ میں تیس چالیس ہزار آدمی عیسائیوں سے مسلمان ہو چکا ہے۔یہ طاقت روز بڑھ رہی ہے اور اسے مضبوط کرنا ہر احمدی کا فرض ہے بلکہ ہر مسلمان خواہ وہ احمدی نہ ہو اُس کا بھی فرض ہے کہ اس کام میں مدد دے۔“ مضمون کے آخر پر حضور نے زندگیاں وقف کرنے والوں کی عظمت و اہمیت بیان کرتے ہوئے نوجوانوں کو زندگیاں وقف کرنے کی تحریک فرمائی اور جماعت کو واقفین کو خاص عظمت دینے کی نصیحت فرمائی۔(4) سیر روحانی نمبر 7 128 دسمبر 1953ء کی یہ پُر شوکت اور پر جلال تقریر ”سیر روحانی“ کے اُس علمی سلسلہ کا تسلسل ہے جس کا آغاز حضرت مصلح موعود نے 1938ء کے جلسہ سالانہ پر کیا تھا اور