انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 162

انوار العلوم جلد 24 162 موجب بن جائیں اور خرابیاں پید کر دیں۔اسلامی ممالک بالخصوص اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ تو یا در کھنا پاکستان کیلئے دُعائیں کرو چاہئے کہ ان میں سے کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کے متعلق ہم کچھ نہیں کر سکتے۔جن کے متعلق ہم کچھ نہیں کر سکتے اُن کے متعلق ہماری دعا کا خانہ خالی ہے۔ہمارے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کم سے کم ہم دعا تو خدا تعالیٰ سے کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دوسرے مسلمانوں کی مصیبت دور کرے۔مثلاً ہماری یہ تو طاقت نہیں کہ سویز سے افواج اٹھا کے انگریزوں کو باہر پھینک دیں، ہماری یہ تو طاقت نہیں کہ عراق کو روس کے حملہ سے بچالیں لیکن ہماری یہ تو طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے فریاد کریں کہ خدایا ! یہ مسلمان ممالک ہیں تین سو سال کی غلامی کے بعد تو نے ان کو آزادی کا سانس دینا شروع کیا تھا اور ساتھ ہی ہمارا گلا گھونٹنا شروع ہو گیا ہے تو ہماری مدد کر اور ان ملکوں کو بچا۔ہمیں نہیں ان چیزوں کا علاج نظر آتا لیکن خدا کو تو علاج نظر آتا ہے، وہ تو غیب کو جانتا ہے۔اُس کو تو پتہ ہے کہ آگے کو کیا ہونے والا ہے۔ہمیں چونکہ نہیں پتہ ہم اپنے موجودہ حالات سے قیاس کر کے کہتے ہیں یہ لا علاج چیز ہے مگر وہ آئندہ کے حالات کو جانتا ہے۔وہ جانتا ہے بیسیوں قسم کے علاج پیدا ہو جانے والے ہیں وہ اُن کو کر سکتا ہے۔تو ہماری جماعت کو اپنی دعاؤں میں اسلامی ممالک کی مصیبتیں اور جو پاکستان کی مصیبتیں ہیں اُن کو یادر کھنا چاہئے۔۔مجھے یاد ہے 1948ء میں میں نے کشمیر کے لئے ایک سفر کیا۔پشاور تک گیا۔پشاور میں میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ڈاکٹر خان اور غفار خان سے ملوں کیونکہ اُن کے تعلقات شیخ عبد اللہ شیر کشمیر سے بہت زیادہ ہیں۔میرے بھی تعلقات تھے تو میں نے درد صاحب کو بھیجا عبد الغفار خان کے پاس کہ میں نے آپ سے ملنا ہے۔تو اُس نے کہا کہ جس وقت مجھے کہیں میں آجاتا ہوں۔اُس کی چونکہ پوزیشن زیادہ تھی چاہے وہ وزیر نہیں تھا لیکن پہلے میں نے اپنا آدمی اُس کے پاس بھیجا۔جب درد صاحب آئے اور انہوں نے کہا کہ غفار نے کہا ہے کہ جہاں چاہیں اور جس وقت کہیں میں آجاتا ہوں تو پھر میں نے