انوارالعلوم (جلد 24) — Page 140
140 انوار العلوم جلد 24 وہ ادا کرنے میں جو قربانی کریں گے اس کا ان کو فائدہ بھی پہنچ جائے گا۔اگر وہ500 ادا کریں گے تو پچاس روپے بچ جائیں اگر ہزار ادا کریں گے تو سو روپیہ بچ جائے گا۔اگر دوسو ادا کریں گے تو ہمیں روپے بچ جائیں گے۔تین سو ادا کریں گے تو تیس روپے بچ جائیں گے۔تو 31 مارچ تک جور قم وصول ہو خواہ وہ ساری نہ ہو اتنے حصہ پر ری بیٹ پھر بھی وہ دے دیں تاکہ اُن کی اس قربانی اور محنت کا نتیجہ کچھ نکلے۔تو جو دوست یہاں ربوہ میں مکان بنوانا چاہتے ہیں یا زمین لینا چاہتے ہیں اُن کو معلوم ہو جائے کہ اب ربوہ میں صرف 325 کنال زمین باقی ہے اور اس کی قیمت بھی پچھلے سال سے قریباً آدھی کر دی گئی ہے اور پھر اس کے ساتھ ری بیٹ بھی رکھ دیا گیا ہے اس لئے یہ سہولت ہے اگر وہ نہ لیں گے تو مجھے پتہ ہے کہ پیچھے لوگوں نے تین تین ہزار روپیہ کنال یہاں خریدی ہے اور میں نے سختی کر کے بیچ میں دخل دیا تو پھر دو دو ہزار تک تو ہمیں بھی ماننا پڑا کہ دو ہزار روپیہ تک زمین دے دو حالا نکہ انہوں نے ساڑھے سات سو کو زمین خریدی تھی بلکہ بعض تو ایسے تھے کہ انہوں نے سو کو خریدی اور دوہزار کو بیچی۔کیونکہ ہم نے اجازت دے دی تھی کہ دوہزار تک آدمی بیچ سکتا ہے اس سے زیادہ لوگوں پر سختی ہو جائیگی اور ربوہ کی آبادی میں دقت ہو جائیگی۔پس یہی قیمتیں جو آج دو گے کسی وقت میں بہت چڑھ جائیں گی۔شہر نے آخر بڑھنا ہے اور پھر یہاں تو ساتھ اس کے تبرک بھی ہے، دین کی خدمت بھی ہے، دین کی باتیں سننے کے مواقع بھی ہیں اور دین کے لئے اکٹھے بیٹھنے کے مواقع بھی ہیں گویا شہر کا شہر بھی ہے اور امن بھی ہے باہر تو یہ باتیں نصیب نہیں۔لیکن باہر جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو یہ تو لازمی بات ہے کہ یہاں بھی بڑھ جائے گی۔قادیان گو شہر کے لحاظ سے چھوٹا سا تھا لیکن بیس بیس ہزار روپیہ کنال تو خود ہم نے خریدی ہے حالانکہ ہم مالک بھی تھے۔بیچتے بھی تھے لیکن میں ہزار روپیہ کنال تک بھی بعض چھوٹے ٹکڑے ہم کو لینے پڑے اور ہمیں ہزار روپیہ کنال کے حساب سے ہمیں دینے پڑے حالانکہ بڑے بڑے شہروں میں بلکہ لاہور جیسے شہر میں بھی بڑی بڑی خاص جگہوں پر ہمیں ہزار روپیہ پر زمین بکتی ہے ورنہ وہاں بھی چار پانچ بلکہ دس ہزار روپیہ