انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 91

انوار العلوم جلد 24 91 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مودودی صاحب اور ان کے ساتھی بتائیں کہ اگر بانی سلسلہ احمدیہ نے ایسے ماضی کو دیکھ کر انگریزوں کے زمانہ کی تعریف کی تو قصور کیا کیا؟ اب رہا مستقبل کا سوال۔مستقبل بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانہ میں صرف یہ تھا کہ ہندو لوگ ہندوستان کو آزادی دلوانے کی جدوجہد کر رہے تھے اور کسی آئندہ حکومت میں مسلمانوں کے جدا گانہ انتخاب کے لئے بھی کوئی تحفظ موجود نہیں تھا۔یا مسلمان سیاست سے بالکل الگ تھے اور یا پھر کانگریس کے ساتھ شامل تھے۔اگر وہ حقیقت پوری ہو جاتی تو کیا سارے ہندوستان میں ایسی حکومت نہ قائم ہو جاتی جو موجودہ بھارت حکومت سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی کیونکہ موجودہ بھارت حکومت کے اوپر کئی پابندیاں ہیں۔اوّل اس معاہدہ کی پابندی جو انہوں نے تقسیم ہندوستان کے وقت مسلمانوں سے کیا۔دوم ان کے پہلو میں ایک آزاد مسلم حکومت کا وجود مگر باوجود ان پابندیوں کے بھارت میں مسلمانوں پر کئی سختیاں گزر جاتی ہیں۔گو مولانا مودودی صاحب کی جماعت ان سختیوں کو کڑوا گھونٹ کر کے نہیں بلکہ شربت قرار دے کر پی رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں کئی قسم کی سختیاں مسلمانوں پر ہو رہی ہیں اور مسلمان آج تک پوری طرح اپنے آپ کو آزاد محسوس نہیں کرتا۔اگر با ہمی کوئی سمجھوتہ نہ ہو تا، اگر بھارت کے پہلو میں پاکستان نہ ہو تا تو مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ گزرنی تھی اس کا خیال کر کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔کیا مودودی صاحب یہ چاہتے ہیں کہ ایسے مستقبل کی تائید بانی سلسلہ احمدیہ کرتے۔بانی سلسلہ احمدیہ 1908ء میں فوت ہوئے اور پاکستان کا خیال 1930ء،1931ء میں پیدا ہوا۔1908ء میں فوت ہونے والے انسان پر یہ مُجرم لگانا کہ پاکستان کے ذریعہ سے مسلمانوں کا جو مستقبل ہونے والا تھا اس نے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے کیوں انگریزی حکومت کے زوال کی خواہش نہ کی کتنا مضحکہ خیز ہے اور پاکستان بنے کا فیصلہ چونکہ 1947ء کے شروع میں ہوا تھا اس لئے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ پر مودودی صاحب یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے خیال کے محبتم ہونے سے پورے چالیس سال پہلے کیوں پاکستان کے وجود کا اندازہ لگاتے ہوئے