انوارالعلوم (جلد 24) — Page 79
انوار العلوم جلد 24 ہے۔79 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب اول یہ کہ ایک کمیشن ان علاقوں میں جائے اور وہاں کے لوگوں سے گواہیاں دوم یہ کہ مولانا مودودی اور ان کے ساتھی مؤکد بعذاب قسم کھائیں کہ احمدی انگریزوں کے ایجنٹ تھے اور انگریزوں کے اشارہ پر کام کر رہے تھے اور یہ کہ اگر مودودی صاحب اور ان کے ساتھی اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں تو خدا ان پر اور ان کی اولا دوں پر اور ان کی بیویوں پر اپنا غضب نازل کرے اور اپنی لعنت نازل کرے۔اس کے مقابل پر احمدی جماعت کے لیڈر یہ قسم کھائیں کہ احمدی جماعت ہمیشہ ہی اسلامی تعلیم کی معترف رہی ہے قرآن اور حدیث کے پیش کر دہ جہاد کو صحیح سمجھتی رہی ہے اور صحیح سمجھتی ہے اور اس کی تبلیغ اسلام نہ انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے تھی، نہ ان کے اشارہ پر تھی بلکہ عیسائی مذہب کی طاقت کو توڑنے کے لئے تھی اور اسلام کو شوکت دینے کے لئے تھی اور اگر وہ اس بیان میں جھوٹے ہیں تو خدا کی لعنت ان پر اور ان کی اولادوں پر اور ان کی بیویوں پر ہو۔کیا مولانا مودودی اپنے ساتھیوں اور دیگر فرقوں کے علماء کو اس قسم کے لئے آمادہ کر سکتے ہیں ؟ ہم جانتے ہیں کہ مولانا مودودی اور ان کی جماعت اور ان کے ساتھی علماء اس قسم کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور اگر ہوئے تو خدا کا عذاب ان پر نازل ہو گا اور احمدی اس قسم کے لئے فوراً تیار ہو جائیں گے۔(کیونکہ ان کے امام کی طرف سے ایسا اعلان ہو چکا ہے) اور اگر وہ ایسی قسم کھائیں گے تو خدا کی مددان کو حاصل ہو گی کیونکہ وہ سچی قسم کھائیں گے۔کیا بائی سلسلہ احمدیہ یہ چاہتے تھے کہ آزاد (13) آخر میں مسلمان قومیں بھی انگریزوں کی غلام ہو جائیں ؟ مولانا مودودی صاحب بانی سلسلہ احمدیہ کے کچھ حوالے درج کرتے ہیں اور ان سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ انگریزوں کے خیر خواہ تھے اور عیسائیوں کے مؤید تھے اور بانی سلسلہ احمدیہ کی غرض دعوی نبوت سے یہ تھی کہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کیا جائے اور چونکہ وہ جانتے تھے کہ اس اختلاف کے پیدا