انوارالعلوم (جلد 24) — Page 56
انوار العلوم جلد 24 56 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب علماء دین و مفتیانِ شرع متین“ کے بھی زبان تک محدود نہیں رہے بلکہ عملاً احمدیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، ان کو لڑکیاں دینے سے روکا گیا، ان کی لڑکیاں لینے سے روکا گیا، ان کو قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت دینے سے روکا گیا۔اب مولانا مودودی صاحب کے دلائل میں صرف ایک ہی طاقت رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ ہم زیادہ ہیں ہمیں سب کچھ کرنے کا حق ہے، تم تھوڑے ہو تمہیں احتجاج کرنے کا بھی حق نہیں۔اس دلیل کا جواب احمدی جماعت کے پاس کوئی نہیں سوائے اس کے کہ اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں میں سے اکثریت نے اس ظلم کو نا پسند کیا ہے اور اُنہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی جلائی ہوئی چنگاری اب تک مسلمان کے دل میں کبھی کبھی شعلہ بار ہو جاتی ہے، کبھی کبھی وہ اپنا وجود ظاہر کر دیا کرتی ہے۔اگر یہ نہ ہو تا تو نہ معلوم مولانامودودی صاحب کے ”علماء دین و مفتیانِ شرع متین احمدیوں کو زندہ دیواروں میں گاڑ کے مار دیتے اور اس پر احتجاج کرنے والوں کی زبان ان کی گڈی سے نکال کر پھینک دیتے۔حفاظت دین تلوار کے ساتھ نہیں بلکہ (8) اس کے بعد مولانا لکھتے تعلیم و تربیت کے ساتھ ہوا کرتی ہے ہیں اگر مسلمانوں سے ان احمدیوں کو الگ کر دیا جائے تو پھر دوسروں کو یہ ہمت نہیں ہو گی کہ وہ نبوت کا دعوی کریں اور مسلمانوں میں افتراق پیدا کریں۔22 مولانا! بازی بازی باریش بابا ہم بازی۔آپ سمجھتے نہیں کہ آپ کی یہ بات کس طرح صحابہ اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چوٹ کرتی ہے۔اگر یہی دلیل مکہ کے لوگ دیتے بلکہ حق تو یہ ہے کہ وہ دیا کرتے تھے تو کیا ان کے وہ مظالم جن کو سُن کر اور جن کو پڑھ کر ایک شریف ہندو اور ایک شریف عیسائی کا دل بھی دہل جاتا ہے وہ جائز اور درست نہیں ہو جائیں گے ؟ مولانا دنیا میں حفاظت دین تلوار کے ساتھ نہیں ہوا کرتی۔