انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 575

انوار العلوم جلد 24 575 سال 1954ء کے اہم واقعات ہے کہ اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلمان اگر ٹھگی کرے تو وہ بھی گویا اس کا ایک قسم کا جائز حق ہے۔پھر ایسے ایسے گند میں مبتلا ہوتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ایک دفعہ ہم پالم پور گئے وہاں کچھ دقت ہو گئی لیکن میری وہاں ٹھہرنے کی صلاح تھی میں نے کہا کہ کچھ چار پائیاں یہاں سے مستی مستی بنو الاؤ۔پہاڑوں پر بہت سستی چار پائیاں تین تین چار چار روپیہ میں مل جاتی ہیں۔میں نے کہا چند بنوالو لوگ نیچے سوتے ہیں۔انہوں نے ایک دکاندار کو بنانے کے لئے کہہ دیا۔اُس نے کچھ تو نہ دیں اور کچھ بالکل ہی اوٹ پٹانگ بنادیں جو سونے کے قابل ہی نہیں تھیں۔ایک دفعہ ہم موٹر میں جارہے تھے کہ کسی نے کہا یہ دکاندار ہے یہ باقی چار پائیاں دیتا بھی نہیں اور جو اس نے بنائی ہیں وہ بھی خراب ہیں۔میں نے اُس کو بلایا اور کہا دیکھو تم مسلمان ہو تمہیں دیانت سے کام لینا چاہئے۔مگر اُس پر اس قدر جہالت غالب تھی کہ وہ کہنے لگا تم تو ہمارے خدا ہو ، خدا نے ہم کو نہیں پالنا تو کس نے پالنا ہے۔میں نے کہا بے وقوف چار پائی کا سوال تھا اب تُو نے مجھے خدا بھی بنا دیا یہ کیا نالا لکھتی ہے؟ کیا تو مسلمان ہے؟ کہنے لگا جی ہاں میں مسلمان ہوں۔مگر جتنا میں اس کو سمجھاؤں وہ کہے لو آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔اس نے چونکہ ہندوؤں سے سنا ہوا تھا کہ بت ہوتے ہیں اس نے یہی سمجھنا شروع کر دیا کہ مذہبی پیشوا اور لیڈر خدا ہی ہوتا ہے اور مذہبی لیڈر ہونے کے لحاظ سے گویا یہ اس کا کام ہے کہ وہ ان کی شرارت اور دھوکے بازی کو انکرج (ENCOURAGE) کرے بجائے اس کے کہ ان کو نصیحت کرے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان کی تجارت وغیرہ بالکل تباہ ہو گئی اور یورپ کی تجار تیں بڑھ گئیں۔اب کہا یہ جاتا ہے کہ یورپ والوں نے سائنس کے ذریعہ سے ترقی کی ہے۔حالانکہ سائنس تو آج نکلی ہے اور ہماری تجارتیں سائنس کے نکلنے سے بھی سالہا سال پہلے خراب ہو چکی تھیں۔پہلے ہاتھوں سے ہی کپڑے بناتے تھے جیسے ہمارے ہاں کھڑیاں ہوتی ہیں۔ان کے بھی کھڑیاں ہوتی تھیں لیکن ان کا کپڑا یہاں آکے بکتا تھا ہمارا نہیں سکتا تھا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ دیانت کے ساتھ کام کرتے تھے ہم نہیں کرتے تھے۔باقی رہا گولہ و بارود۔