انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 563

انوار العلوم جلد 24 563 سال 1954ء کے اہم واقعات بات تھی اب تو یہ جگہ آباد ہو گئی ہے۔میں نے کہا ہال بازار کا خیال جانے دو اگر یہاں جگہ نہیں ملتی تو شریف پورہ آباد ہو رہا ہے میں نے سنا ہے اب شریف پورہ میں جگہ ملتی ہے وہاں لے لو۔کہنے لگے نہیں نہیں وہاں کون جاتا ہے، شریف پورہ بالکل باہر ہے۔میں نے کہا اب موقع ہے پھر تمہیں وہاں بھی نہیں ملے گی۔کہنے لگے نہیں بس ، ٹھیک ہے۔دو چار سال کے بعد پھر آئے میں نے کہا سناؤ مسجد کے لئے زمین مل گئی؟ کہنے لگے دعا کریں کہ شریف پورہ میں جگہ مل جائے۔میں نے کہا۔ہیں ! شریف پورہ تو بڑی نامناسب جگہ تھی شریف پورہ میں ملنے کا کیا مطلب؟ کہنے لگے ہاں اب وہ بڑا آباد ہو گیا ہے اور اب وہاں بھی جگہ نہیں ملتی۔پھر اس سے پرے ایک اور جگہ تھی، خبر نہیں کیا پورہ بنا تھا۔میں نے کہا اُس میں جگہ لے لو۔کہنے لگے نہیں نہیں اُس میں کون جاتا ہے شریف پورہ میں ملنی چاہئے۔کچھ عرصہ کے بعد پھر میں نے کہا۔سناؤ مسجد کا کیا حال ہے؟ اس پر پھر وہ جو میں نے نئی جگہ بتائی تھی اُس کا نام لے کر کہنے لگے دعا کریں وہاں مل جائے۔میں نے کہا کیوں !! شریف پورہ میں کیوں نہیں لیتے؟ کہنے لگے وہاں تو اب نہیں ملتی اب اس میں بھی مشکل ہو گئی ہے آپ اس کے لئے دعا کریں۔میں نے کہا میں ساری عمر اپنی دعا تمہاری مسجد کے پیچھے لئے پھرتا رہوں۔پھر پیچھے خدا نے ان کو اندر بھی ایک چھوٹی سی جگہ دے دی لیکن جیسی میں چاہتا تھا کہ ان کو جگہ مل جائے اور اس میں لائبریری بھی بن جائے اور مسجد بھی بن جائے وہ تو باہر ہی مل سکتی تھی۔جماعت اتنی تھی ہی نہیں کہ ان کے پاس اتنا روپیہ ہو کہ وہ اندر کوئی بڑی زمین خرید سکے۔اتنار : دوسری کراچی کی جماعت تھی مگر وہ وقت پر سمجھ گئی بہر حال ان سے بھی یہی ہوا کہ 1935 ء سے میں نے وہاں جانا شروع کیا اور ان کو سمجھانا شروع کیا اور انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہاں جگہ مل جائے، فلاں جگہ مل جائے آخر یہ ہوا کہ بڑی مصیبتوں سے ان کو راضی کیا اور انہوں نے خدا کے فضل سے مسجد بنالی۔بناتے بناتے کچھ ہند و وہاں سے بھاگے تو انہوں نے کچھ غنیمت کا مال بھی ٹوٹا اور اس طرح مسجد ان کی اور زیادہ وسیع ہو گئی۔اس طرح اور کئی جماعتیں ہیں۔میں نے دیکھا ہے سارے کے سارے اس فکر