انوارالعلوم (جلد 24) — Page 564
انوار العلوم جلد 24 564 سال 1954ء کے اہم واقعات میں رہتے ہیں کہ ان کو سرکٹ ہاؤس میں جگہ ملے۔بھلا "کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ " تمہاری ابھی حیثیت ہی کیا ہے۔نہ تمہارے پاس اتنا روپیہ ہے، نہ اتنی طاقت ہے، نہ شوکت ہے اور پھر بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں ایک اور سوال پیدا ہو جاتا ہے۔جیسے ملتان والے ہیں وہ تو کہتے ہیں اب بھی امید ہے لیکن آٹھ دس سال سے یہی ہو تا چلا آیا ہے۔وہ کہتے ہیں گورنمنٹ کی طرف سے زمین انعام مل جائے۔راولپنڈی والے بھی اس کی بڑی خواہش رکھتے تھے۔میں نے انہیں کہا تمہیں دیتا کون ہے۔آخر تم اپنی حیثیت تو سمجھو۔کہنے لگے بس اب مل رہی ہے اب وہ راضی ہو گئے ہیں مگر پھر تھوڑے دنوں کے بعد کہا لوگوں نے شور مچایا ہوا ہے۔میں نے کہا لوگوں نے ہمیشہ شور مچانا ہے تمہیں اس طرح زمین مل ہی نہیں سکتی تم کیوں خواہ مخواہ اپنے آپ کو خراب کر رہے ہو۔تم زمین خرید و، ہیں خرید و، باہر خرید و خدا تمہاری خاطر وہیں شہر لے جائے گا۔غرض بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جن میں یہی دقت پیدا ہوتی رہی ہے۔لاہور والوں کو بھی بڑی مصیبت سے پیچھے پڑپڑ کے میں نے زمین خریدنے پر مجبور کیا۔اس وقت میاں سراج الدین صاحب میرے سامنے ہی بیٹھے ہیں۔میں نے ان کو کہا کہ میاں! تم خرید و ہم زبر دستی تمہارے پیچھے یہ کام لگا دیتے ہیں چنانچہ انہوں نے خرید لی اب وَاللهُ اَعلَمُ وہ کب تک محفوظ ہوتی ہے کیونکہ اس کے متعلق کچھ قانونی جھگڑے ہیں۔بہر حال یہ خیال بالکل جانے دو کہ مسجد مرکز میں ہو۔تم اپنے خدا پر اتنے بد ظن کیوں ہو۔تم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جہاں تمہاری مسجد ہو گی خدا اُسی جگہ شہر لے جائے گا۔کیا تم نے دلی کو نہیں دیکھا ہوا کہتے ہیں ہر سو سال کے بعد وہ بگڑتی ہے اور دوسری جگہ بستی ہے۔تو شہر اُجڑا کرتے ہیں اور دوسری جگہ بسا کرتے ہیں۔سیالکوٹ والوں کو بھی اسی طرح مجبور کر کے میں نے زمین دلوائی تھی۔اس وقت کہتے تھے کہ یہاں تو کوئی بھی نہیں جانے کا۔مگر اب وہ کہتے ہیں کہ ارد گر دسب آبادی ہو گئی ہے اور بڑھتی چلی جاتی ہے کیونکہ اب لوگوں کا ادھر رُخ ہو گیا ہے۔تو تم خدا پر حسن ظنی کرتے ہوئے جہاں بھی جگہ ملے لے لو اور پھر جیسی بھی کھڑی ہو سکتی ہو مسجد کھڑی کر لو۔لیکن