انوارالعلوم (جلد 24) — Page 492
انوار العلوم جلد 24 492 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار وطن کا لباس نہیں پہنا اس لئے میں ننگا ہوں تو یہ ان کی عقل کا فتور ہے۔میں نے لباس پہنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا بہر حال ان کا لحاظ کرنا چاہئے آپ شلوار کی بجائے پتلون پہن لیا کریں۔میں نے کہا میں آتی دفعہ چند پاجامے علیگڑھی فیشن کے سلوا کر لایا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ میں یہاں آکر وہ پاجامے استعمال کروں گا لیکن اگر انہیں اعتراض ہے کہ میں نے یہاں آکر ان کا لباس کیوں نہیں پہنا تو میں اب وہ پاجامے بھی استعمال نہیں کروں گا شلوار ہی پہنوں گا۔شام کو سر ڈینی سن راس مجھے ملنے آئے۔وہ علیگڑھ میں کچھ عرصہ رہ گئے تھے۔ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔میں نے ان سے ذکر کیا کہ میں یہاں آکر اپنا ملکی لباس پہنتا ہوں اور آپ کے ملک کے لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں نگا پھر رہا ہوں آخر وہ کیوں بر امناتے ہیں کیا یہ ہمارا ملکی لباس نہیں۔سر ڈینی سن راس نے کہا وہ اس لئے بر امناتے ہیں کہ انہیں اس لباس کے دیکھنے کی عادت نہیں۔میں نے کہا پھر مجھے بھی ان کا لباس دیکھنے کی عادت نہیں۔میں اسے برا کیوں نہ سمجھوں۔اگر کوئی روسی، جرمن یا فرانسیسی آپ کے ملک میں آتا ہے اور وہ اپنا ملکی لباس استعمال کرتا ہے تو آپ اسے بُرا نہیں سمجھتے لیکن اگر کوئی ہندوستانی یہاں آکر اپنا لباس استعمال کرتا ہے تو آپ اس پر بر امناتے ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ آپ ہندوستانیوں کو ذلیل سمجھتے ہیں۔سر ڈینی سن راس نے کہا۔ہاں بات تو یہی ہے۔اس پر میں نے کہا اگر یہی بات ہے تو ہر عظمند ہندوستانی کو چاہئے کہ وہ آپ کی کسی بات میں نقل نہ کرے۔کم از کم میں اس بات کے لئے تیار نہیں کہ آپ کو بڑا سمجھوں اور اپنے آپ کو ذلیل سمجھوں۔میں نے کہا سر ڈینی سن راس! مجھے سچ سچ بتائیں کیا آپ لوگ اپنے ذہن میں ہر اُس ہندوستانی کو ذلیل نہیں سمجھتے جو ہر بات میں آپ کی نقل کرتا ہے ؟ انہوں نے کہا بات تو یہی ہے۔پس تم نے ہر جگہ پھرنا ہے اگر تم ہر بات میں دوسروں کی نقل کرو تو تمہارے ملک اور مذہب کی کیا عزت رہ جائے گی۔ہم جب انگلستان گئے تو جس جہاز میں ہم سفر کر رہے تھے اس کا ڈاکٹر مجھے ملا۔وہ اٹلی کا رہنے والا تھا وہ ابھی کنوارا تھا۔میں نے اسے کہا تم شادی کیوں نہیں کرتے ؟ وہ