انوارالعلوم (جلد 24) — Page 491
انوار العلوم جلد 24 491 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار آریوں کو پتہ لگا تو انہوں نے اسے سمجھانا شروع کیا۔اس نے کہا مجھے اسلام کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس سے بہتر اور کوئی مذہب نہیں۔انہوں نے کہا تم نے صرف کتابی علم حاصل کیا ہے تم نے ان لوگوں کے عمل کو نہیں دیکھا۔تم اس مولوی کو جس سے تمہارا دوستانہ ہے ایک ہزار یا دو ہزار روپیہ دے دو تو یہ تمہارے ساتھ شراب بھی پی لے گا حالانکہ شراب اسلام نے حرام کی ہے۔چنانچہ اس نے ایک دن اس مولوی سے کہا کہ میں آپ کی وجہ سے اسلام قبول کر رہا ہوں اور اپنا سب کچھ چھوڑ رہا ہوں تم دیکھتے ہو کہ میں شراب کا عادی ہوں۔اسلام قبول کرنے کے بعد تو مجھے شراب پینا ترک کرنا ہو گا۔اب آخری دفعہ مجلس لگ جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔اور پھر جب میں نے آپ کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دینا ہے تو آپ میری خاطر ایک دفعہ تو شراب پی لیں۔میں آپ کی خدمت میں دو ہزار روپیہ نذرانہ پیش کروں گا۔چنانچہ مولوی صاحب نے دو ہزار روپیہ ہاتھ میں لیا اور شراب پی لی۔اس سے اس نے معلوم کر لیا کہ آریہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہی درست۔مسلمان کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں چنانچہ وہ بر ہمو سماج میں چلا گیا۔پس تمہیں اپنے آپ کو ایسا بنانا چاہئے کہ جو کچھ تم منہ سے کہتے ہو اس پر عمل بھی کرو۔تمہارا قول و فعل ایک ہو۔آخر وجہ کیا ہے کہ یورپ والے تمہاری نقل نہیں کرتے لیکن تم یورپ والوں کی نقل کرتے ہو۔در حقیقت جب تم ان کی نقل کرتے ہو تو اپنی ذلت پر آپ مہر لگاتے ہو۔میں جب انگلستان گیا تو چونکہ وہاں سردی زیادہ تھی اس لئے میں کچھ علیگڑھی فیشن کے گرم پاجامے بھی بنوا کر ساتھ لے گیا اور میرا ارادہ تھا کہ وہاں جا کر انہیں استعمال کرونگا لیکن میں نے وہاں جاتے ہی پاجامے استعمال نہیں کر لینے تھے۔میں نے ابھی شلوار ہی پہنی ہوئی تھی کہ ایک دو دن کے بعد امام صاحب مسجد لندن میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کے شلوار پہنے کی وجہ سے لوگوں کو ٹھو کر لگ رہی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ امام جماعت احمد یہ ننگے پھر رہے ہیں۔کیونکہ اگر کسی کی قمیص پتلون سے باہر ہو تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ننگا ہے۔میں نے کہا اگر وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ میں نے ان کے ہے۔