انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 17

انوار العلوم جلد 24 17 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب کمال متابعت و فرط محبت بلکہ بمحض عنایت و موهبت جمیع کمالات انبیاء متبوعه خود را جذب مے نمائند و بکلیت برنگ ایشاں منصبع می گردند حتی که فرق نمی ماند در میان متبوعان و تابعان الا بالاصالة و التبعية والاولية والآخرية 23 یعنی انبیاء کے جو کامل متبعین ہوتے ہیں وہ ان کی انتہائی متابعت اور محبت کی وجہ سے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی عنایت اور موہبت سے انبیاء کے تمام کمالات اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں اور انہیں کے رنگ میں کامل طور پر رنگین ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ تابع اور متبوع میں سوائے اصالت اور متابعت اور اول اور آخر ہونے کے اور کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ ختم نبوت کی تشریح بانی سلسلہ احمدیہ کے الفاظ میں ان علماء اور صلحاء نے جو مفہوم ختم نبوت کا بیان کیا ہے بالکل وہی مفہوم بلکہ اس سے زیادہ پابندیوں کے ساتھ بانی سلسلہ احمدیہ نے ختم نبوت کی تشریح کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ چنانچہ ہم آپ کے چند حوالہ جات ذیل میں درج کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:۔ وہ خاتم الانبیاء ہے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی اُمت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہو گا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے اُمتی ہونالازمی ہے “۔ 24 خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پر دہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النبیین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اس