انوارالعلوم (جلد 24) — Page 483
انوار العلوم جلد 24 483 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب دو ہونی چاہیں چونکہ اس کالج کا نام ” تعلیم الاسلام “ کالج ہے اور تم میں سے ہر ایک اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہاں آیا ہے اسلئے تمہارا فرض ہے کہ تم یہاں رہ کر اسلام سیکھو آگے میں نے بتایا ہے کہ یہاں فرقہ بندی کی کوئی بات نہیں تم کسی فرقہ کے مخصوص عقائد پر عمل کرو اور دوسرے لوگوں کو بتاؤ کہ کالج والے ہمیں جرآت دلاتے ہیں کہ ہم اپنے اپنے فرقہ کے عقائد پر عمل کریں۔اگر ہم حنفیت پر عمل کرتے ہیں تو وہ اس سے روکتے نہیں، اگر ہم شیعیت پر عمل کرتے ہیں تو وہ اس میں مخل نہیں ہوتے ، اگر ہم دیوبندی یا بریلوی ہیں تب بھی وہ ہمارے مذہبی عقائد میں دخل اندازی نہیں کرتے ، اس سے ملک کے لوگوں میں عمل کی سپرٹ پیدا ہو گی اور پاکستان سے سستی کی لعنت دور ہوگی۔شیخو پورہ میں ایک عیسائی پادری تھا وہ اپنی مدت ملازمت پوری کر کے واپس جارہا تھا کہ ہمارے مبلغ اپنے سوشل تعلقات کی وجہ سے ان کے گھر گئے اس سے وہ بھی ممنون ہو گیا اور جب ہمارے مبلغ واپس آنے لگے تو وہ بھی انہیں چھوڑنے آیا۔ہمارے مبلغ نے اُس سے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کسی دن پاکستان کی عظمت اور اس کا رعب بھی دنیا پر قائم ہو جائے گا؟ عیسائی پادری نے کہا جب تک اس ملک میں حقہ کا رواج ہے اور جب تک اس ملک میں سستی اور کاہلی پائی جاتی ہے پاکستان رُعب اور عظمت حاصل نہیں کر سکتا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ ویسٹ آف ٹائم اور ویسٹ آف انرجی دونوں انسان کو ترقی کی طرف قدم بڑھانے نہیں دیتیں۔دیکھ لو یورپین لوگوں میں بیداری پائی جاتی ہے لیکن ان کے مقابلہ میں ہمارے ہاں ایک جمود پایا جاتا ہے گویا ہم افیونی ہیں۔افیونی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک طبعی افیونی ہوتے ہیں۔اور دوسرے نفسیاتی افیونی ہوتے ہیں ہم نفسیاتی افیونی ہیں۔میں جب انگلستان گیا میرے ساتھ سلسلہ کے ایک عالم بھی تھے ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا حضور ! کیا آپ نے یہاں کوئی آدمی چلتے بھی دیکھا ہے ؟ میں ان کا مطلب سمجھ گیا میں نے کہا نہیں میں نے یہاں ہر شخص کو دوڑتے دیکھا ہے اور یوں معلوم