انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 471

انوار العلوم جلد 24 471 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار یہ سفارش کی جاتی ہے کہ طلباء میرے اس لیکچر کا ضرور مطالعہ کریں۔میں نے اس لیکچر میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ بات کہ اسلام میں فتنوں کا موجب حضرت عثمان اور بڑے بڑے صحابہ تھے بالکل جھوٹ ہے اس لیکچر کے سلسلہ میں میں نے زیادہ طبری کو مد نظر رکھا ہے۔طبری نے یہ اصول رکھا ہے کہ وہ ایک ایک واقعہ کی پانچ پانچ سات سات روایات دے دیتا ہے۔میں نے دیکھا کہ ان میں سے وہ کون سے واقعات ہیں جن کی ایک زنجیر بن سکتی ہے۔ان واقعات کو میں نے لے لیا اور باقی کو چھوڑ دیا کیونکہ ایک طرح کی زندگی میں اختلاف نہیں ہو سکتا اگر ایک سال ایک کام معاویہ کر رہے ہوں۔اگلے سال وہ کام عمرو بن عاص کر رہے ہوں اور اگلے سالوں میں وہی کام پھر معاویہ سے منسوب ہو تو درست بات یہی ہو گی کہ وہ کام دوسرے سال بھی معاویہ ہی کر رہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص کا نام غلطی سے آگیا ہے۔اس اصول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ صحابہ سے بعض غلطیاں ہوئیں یا حضرت علی کے متعلق بعض واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔وہ سب غلط ہیں گویا یہاں علم النفس میرے کام آیا یا اگر ایک شخص کے متعلق ایک سال بعض واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔دوسرے سال بھی بعض واقعات بیان کئے جاتے ہیں تیسرے سال بھی بعض واقعات بیان کئے جاتے ہیں تو ہمیں وہی واقعات درست ماننے پڑیں گے جو ایک کڑی اور زنجیر بنا دیں۔رحم دل اور سنگدل یا پارسا یا عیاش آدمی جمع نہیں ہو سکتے۔مثلاً ایک آدمی کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ رحمدل ہے اور اکثر واقعات اس کی رحمدلی پر دلالت کرتے ہیں۔اگر اس کے متعلق بعض ایسی روایات آجائیں کہ وہ ظالم تھا تو ہمیں ماننا پڑیگا کہ اسے ظالم بتانے والی روایات غلط ہیں کیونکہ رحم دلی اور ظلم جمع نہیں ہو سکتے۔پس سائیکالوجی سے شواہد کو چیک کر لیا جائے تو تاریخ بھی علم بن جاتا ہے۔سائیکالوجی کی مدد سے ہم دو سال بعد بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کونسا واقعہ درست ہے اور کونسا غلط میں اس کی مثال دیتا ہوں اور یہ مثال اَلفَضْلُ مَاشَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ کی