انوارالعلوم (جلد 24) — Page 456
انوار العلوم جلد 24 456 خدام الاحمدیہ کے قیام کا مقصد۔سوال ہے اُس کا لگانا خدا کے اختیار میں ہے لیکن جہاں تک اُن پھلوں کی حفاظت کا سوال ہے وہ انسان کے اختیار میں ہے۔لیکن بے وقوف اور نادان باغبان پھلوں کی حفاظت نہیں کرتا اور وہ ضائع ہو جاتے ہیں۔یہاں پاکستان میں ہمیں بھی لائل پور میں ایک باغ الاٹ ہوا ہے۔لاہور کے ایک تاجر نے اُس کا ٹھیکہ لیا تھا وہ مجھے ملے تو کہنے لگے بیشک ہم نے بھی نفع اٹھایا ہے لیکن آپ دیکھیں کہ کیا اس باغ میں اب کہیں بھی کوئی طوطا نظر آتا ہے۔پہلے اس باغ میں ہزار ہا طوطے ہوا کرتے تھے مگر اب ایک طوطا بھی نظر نہیں آتا اور اگر کوئی غلطی سے ادھر کا رُخ کرے تو چکر کاٹ کر بھاگ جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے سے کئی گنا زیادہ پھل پیدا ہوا اور ہم نے بھی فائدہ اٹھایا اور آپ کو بھی زیادہ پیسے دیئے۔تو پھل تو سب باغوں میں آتے ہیں۔باغبان کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اُن کی حفاظت کرے۔خدام الاحمدیہ کا قیام بھی اسی لئے کیا گیا ہے کہ بچپن اور نوجوانی میں بعض لوگ بیرونی اثرات کے ماتحت کمزور ہو جاتے ہیں اور اُن میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔بعض لوگ دوسری سوسائٹیوں سے بُرا اثر قبول لیتے ہیں اور بعض تربیت کے نقائص کی وجہ سے آوارگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض یہ ہے کہ اس بیرونی تغیر کو جماعت احمدیہ میں داخل نہ ہونے دیں اور اس مقصد کو ہمیشہ نوجوانوں کے سامنے رکھیں جس کے پورا کرنے کے لئے جماعت احمد یہ قائم کی گئی ہے۔اگر نوجوانوں میں یہ روح پیدا کر دی جائے تو پھر بیشک شرارت کرنے والے شرارت کرتے رہیں خواہ اپنے ہوں یا غیر سب کے سب ناکام رہیں گے۔دنیا میں بسا اوقات اپنے دوست اور عزیز بھی مختلف غلط فہمیوں کی بناء پر مخالفت پر اتر آتے ہیں جیسے آجکل مسلمانوں کی حالت ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں، قرآن کو مانتے ہیں لیکن وہ اپنی نادانی سے سمجھتے ہیں کہ ہم اس راستہ سے ہٹ گئے ہیں حالانکہ وہ خود اس راستہ سے ہٹ چکے ہیں۔اسی طرح ہندو اور عیسائی وغیرہ بھی مخالفت کرتے ہیں۔پس خواہ اپنے لوگ مخالفت کریں یا غیر کریں وہ اپنا کام کئے چلا جاتا ہے