انوارالعلوم (جلد 24) — Page 12
انوار العلوم جلد 24 12 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب جن لوگوں نے دعویٰ نبوت کیا اور جن سے صحابہ نے جنگ کی وہ سب کے سب ایسے تھے جنہوں نے اسلامی حکومت سے بغاوت کی تھی اور اسلامی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔مولانا کو اسلامی لٹریچر کے مطالعہ کا بہت دعویٰ ہے۔کاش وہ اس امر کے متعلق رائے ظاہر کرنے سے پہلے اسلامی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حارث اور طلیحہ بن خویلد اسدی یہ سب کے سب ایسے لوگ تھے جنہوں نے مدینہ کی حکومت کی اتباع سے انکار کر دیا تھا اور اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومتوں کا اعلان کر دیا تھا۔مولانا اگر تاریخ ابن خلدون جلد 2 صفحہ 65 کو کھول کر پڑھنے کی تکلیف گوارا فرمائیں تو انہیں وہاں یہ عبارت نظر آئے گی کہ :- تمام عرب خواہ وہ عام ہوں یا خاص ہوں ان کے ارتداد کی خبریں مدینہ میں پہنچیں صرف قریش اور ثقیف دو قبیلے تھے جو ارتداد سے بچے اور مسیلمہ کا معاملہ بہت قوت پکڑ گیا اور کلے اور اسد قوم نے طلیحہ بن خویلد کی اطاعت قبول کر لی اور غلفان نے بھی ارتداد قبول کر لیا اور ہوازن نے بھی زکوۃ روک لی اور بنی سلیم کے امراء بھی مرتد ہو گئے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امراء یمن اور یمامہ اور بنی اسد اور دوسرے ہر علاقہ اور شہر سے واپس لوٹے اور اُنہوں نے کہا کہ عرب کے بڑوں نے بھی اور چھوٹوں نے بھی سب کے سب نے اطاعت سے انکار کر دیا ہے۔حضرت ابو بکر نے انتظار کیا کہ اسامہ واپس آئے تو پھر اُن کے ساتھ جنگ کی جائے لیکن عیں اور ذبیان کے قبیلوں نے جلدی کی اور مدینہ کے پاس ابرق مقام پر آکر ڈیرے ڈال دیئے اور کچھ اور لوگوں نے ذوالقصہ میں آکر ڈیرے ڈال دیئے ان کے ساتھ بنی اسد کے معاہد بھی تھے اور بنی کنانہ میں سے بھی کچھ لوگ ان سے مل گئے تھے ان سب نے ابو بکر کی طرف وفد بھیجا اور مطالبہ کیا کہ نماز تک تو ہم آپ کی بات ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن