انوارالعلوم (جلد 24) — Page 423
انوار العلوم جلد 24 423 اپنے اندر یکجہتی پیدا کر و اور پہلے سے بھی زیادہ جوش سے اور کوئی نہیں کر سکتا۔اس تجربہ کی صداقت میں مسمریزم کا علم جاری ہوا۔اس کی تائید میں ہیپناٹزم نکلا، اسی کے ساتھ وضو کا مسئلہ تعلق رکھتا ہے غرض یہ سارے علوم اس امر کے گرد چکر لگا رہے ہیں کہ انسان کے دل سے ایسی شعاعیں نکلتی ہیں جو دوسرے کے دل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔پس اگر کھڑے ہونے میں تم احتیاط نہیں کرو گے اور یکجہتی اور اتحاد سے کام نہیں لو گے تو لازماً اس کا تمہارے قلوب پر اثر پڑے گا پس چاہئے کہ جن کو میں نے ماتحت عہدیدار مقرر کیا ہوا ہے وہ اس طرف توجہ کریں۔آخر میں تو اتنا کام نہیں کر سکتا۔میں اگر صدر بنا ہوں تو اس لئے کہ تم میں یہ جوش اور امنگ قائم رہے کہ تمہارا خلیفہ صدر ہے ورنہ کام سارا ماتحتوں نے کرنا ہے اور انہی کو کرنا چاہئے۔میں یہ نہیں کہتا کہ جو سہارے کا محتاج ہے وہ سہارا نہ لے اگر کوئی کمزور یا بیمار ہو تو وہ لاٹھی کا سہارا لے سکتا ہے بلکہ اگر زیادہ تکلیف ہو تو وہ بیٹھ بھی سکتا ہے۔جو طاقتور ہیں وہ سارے کے سارے ایک شکل میں کھڑے ہوں۔اگر یہ مقرر ہو کہ ہاتھ کھول دیں تو سب ہاتھ کھول دیں اور اگر یہ مقرر ہو کہ ہاتھ باندھ لیں تو سب کا فرض ہے کہ ہاتھ باندھ لیں۔اگر کوئی بیماریا کمزور ہے تو بے شک بیٹھ جائے۔اگر نماز بیٹھ کر پڑھنی جائز ہے اور اس سے صف میں کوئی خلل نہیں آسکتا تو خدام کے اجتماع میں بھی اس سے کوئی نقص واقع نہیں ہو سکتا۔صرف اس پیجہتی سے یہ پتہ لگ جائے گا کہ خدام میں کوئی نظام موجود ہے۔اب موجودہ حالت میں کچھ پتہ نہیں لگتا کوئی ہاتھ باندھے کھڑا ہے اور کوئی ہاتھ لٹکائے۔اگر سب ایک طرح کھڑے ہوں تو خواہ بیمار اور کمزور بیٹھے ہوئے ہوں تب بھی دیکھنے والا یہ نہیں سمجھے گا کہ ان کا نظام خراب ہے بلکہ وہ ان کے بیٹھنے کو ان کی معذوری پر محمول کرے گا۔میں سمجھتا ہوں اگر کوئی فیصلہ ہو جائے تو بیٹھنے والا بھی وہی شکل اختیار کر سکتا ہے۔مثلاً اگر یہ فیصلہ ہو جائے کہ ہاتھ لٹکانے ہیں تو وہ بھی ہاتھ لٹکا کر بیٹھ سکتا ہے۔اگر ہاتھ پیچھے کرنے کا فیصلہ ہو جائے گو یہ نا معقول بات ہے تو بیٹھنے والا بھی ایسا کر سکتا ہے۔پس اپنا ایک نظام مقرر کرو اور اسی جلسہ میں اس کا فیصلہ کرو اور سب کو سکھاؤ کہ جب بھی تم نے کھڑا ہونا ہو اس شکل میں کھڑے ہو اور پھر نوجوانوں کو آزادی دو اور انہیں بتا دو کہ اگر تم میں سے بعض