انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 376

انوار العلوم جلد 24 376 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان میرے پاس پہنچی تھی اور میں نے اس کے متعلق متعلقہ ناظر سے جواب طلبی کی تھی اس نے مجھے بتلایا تھا کہ اس نے ایڈیٹر کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ اس کی تردید کرے۔سوال: کیا وہ تردید آپ کے علم میں آئی؟ جواب: نہیں۔لیکن ابھی ابھی مجھے 7 اگست 1952ء کے الفضل کا ایک آرٹیکل جس کا عنوان "ایک غلطی کا ازالہ" ہے دکھایا گیا ہے جس میں مذکورہ بالا تحریر کی تشریح کر دی گئی تھی۔عدالت کا سوال: اس ادارتی مقالہ میں جن مولویوں کو ملا کہا گیا ہے کیا انہوں نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ احمدی مرتد اور واجب القتل ہیں ؟ جواب: میں صرف یہ جانتا ہوں کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ رائے ظاہر کی تھی۔وکیل کے سوال: کیا آپ نے جون 1919ء کے تشحیذ الاذہان کے صفحہ نمبر 38 پر مندرجہ ذیل عبارت کہی تھی ؟ ”خلیفہ ہو تو جو پہلا ہو اُس کی بیعت ہو۔جو بعد میں دوسرا پہلے کے مقابل پر کھڑا ہو جائے جیسے لاہور میں ہے تو اُسے قتل کر دو۔مگر یہ قتل کا حکم تب ہے کہ جب سلطنت اپنی ہو۔اب اس حکومت میں ہم ایسا نہیں کر سکتے۔“ جواب: جی نہیں۔ڈائری نویس نو آموز تھا۔میں نے جو کچھ کہا اُسے اُس نے غلط طور پر پیش کیا۔در حقیقت جو کچھ میں نے کہا تھا میں نے اُس کی توضیح اُس وقت کر دی تھی جب احمدیوں کی لاہوری پارٹی نے حکومت سے شکایت کی تھی اور حکومت نے مجھ سے اس کی وضاحت چاہی تھی۔سوال: کیا آپ کی جماعت خالص مذہبی جماعت ہے یا کہ سیاسی بھی؟ جواب: اصل میں تو یہ مذہبی جماعت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا دماغ عطا کیا ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی مسئلہ اس کے سامنے پیش ہوتا ہے تو وہ بریکار نہیں رہ سکتا۔سوال: کیا آپ نے کو ئٹہ میں اپنے خطبہ جمعہ میں وہ تقریر (اگز بٹ ڈی۔ای۔324) کی تھی