انوارالعلوم (جلد 24) — Page 375
انوار العلوم جلد 24 375 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان ان کے خون بہائیں کیونکہ قتل کرنا ہمارا کام نہیں۔ہمیں خدا نے پرامن ذرائع سے کام کرنے کے لئے کھڑا کیا ہے نہ کہ اپنے دشمنوں کو قتل کرنے کے لئے۔پس ہمارا انتقام یہ ہے کہ ان کے اور ان کی نسلوں کے دلوں میں احمدیت کا بیج بوئیں اور انہیں احمدی بنائیں اور جس چیز کو وہ مٹانا چاہتے ہیں اس کو ہم قائم کر دیں۔۔۔۔۔مگر اب ہمارا یہ کام ہے کہ ان کے خون کا بدلہ لیں اور ان کے قاتل جس چیز کو مٹانا چاہتے ہیں اسے قائم کر دیں اور چونکہ خدا کی برگزیدہ جماعتوں میں شامل ہونے والے اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں کہ اپنے دشمنوں پر احسان کرتے ہیں اس لئے ہمارا بھی یہ کام نہیں ہے کہ سید عبد اللطیف صاحب کے قتل کرنے والوں کو دنیا سے مٹادیں اور قتل کر دیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں ہمیشہ کے لئے قائم کر دیں اور ابدی زندگی کے مالک بنا دیں اور اس کا طریق یہ ہے کہ انہیں احمدی بنائیں۔“ عدالت کا سوال: اس سیاق و سباق میں " احمدیت" سے کیا مراد ہے؟ جواب: احمدیت سے مراد اسلام کی وہ تشریح ہے جو احمد یہ جماعت کے بانی نے کی۔وکیل کے سوال: کیا آپ نے الفضل کے 15 جولائی 1952ء کے شمارہ میں ایک مقالہ افتتاحیہ جو خونی مُلا کے آخری دن“ کے عنوان سے شائع ہوادیکھا ہے جس میں مندرجہ ذیل الفاظ آتے ہیں: ”ہاں آخری وقت آن پہنچا ہے ان تمام علماء حق کے خون کا بدلہ لینے کا جن کو شروع سے یہ خونی ملا قتل کرواتے آئے ہیں۔ان سب کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔(1) عطاء اللہ شاہ بخاری سے (2) ملا بدایونی سے (3) مُلا احتشام الحق سے (4) ملا محمد شفیع سے 66 (5) مُلّا مو دودی ( پانچویں سوار )۔جواب : ہاں۔اس تحریر کے متعلق منٹگمری کے ایک آدمی کی طرف سے ایک شکایت