انوارالعلوم (جلد 24) — Page 374
انوار العلوم جلد 24 374 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان اقلیت قرار دیا جانے کا مطالبہ کیا تھا؟ جواب: نہیں۔اصل واقعات یہ ہیں کہ جب 1946ء میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوئے تو حکومت نے مختلف فرقہ وارانہ پارٹیوں سے استفسارات کئے اور تمام مسلمانوں کو ایک جماعت قرار دیا۔اس پر بعض مسلم لیگیوں کی طرف سے ہمیں کہا گیا کہ یہ انگریز کی ایک چال ہے جس نے اس طرح غیر مسلم جماعتوں کی تعداد بڑھادی ہے اور مسلمانوں کو صرف ایک پارٹی ہی تصور کیا ہے۔اس پر ہم نے گورنمنٹ سے احتجاج کیا کہ کیوں احمدیوں سے بھی ایک پارٹی کی حیثیت میں استفسار نہیں کیا گیا؟ حکومت نے جواب دیا کہ ہم ایک سیاسی پارٹی نہیں بلکہ ایک مذہبی جماعت ہیں۔سوال: کیا مارچ 1919ء کے سالانہ جلسہ کے موقع پر ایک اجلاس میں آپ نے وہ بیان دیا تھا جس کا ذکر رسالہ ” عرفان الہی“ کے صفحہ 93 پر ”انتقام لینے کا زمانہ “ کے زیر عنوان کیا گیا ہے اور جس میں کہا گیا ہے کہ : اب زمانہ بدل گیا ہے۔دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا مگر اب مسیح اس لئے آیا تا اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اُتارے۔؟“ جواب: ہاں۔مگر اقتباس والے اس فقرے کی تشریح کتاب کے صفحہ 102،101 پر کی گئی ہے۔جہاں میں نے کہا ہے کہ: لیکن کیا ہمیں اس کا کچھ جواب نہیں دینا چاہئے اور اس خون کا بدلہ نہیں لینا چاہئے ؟ لیکن اُسی طریق سے جو حضرت مسیح موعود نے ہمیں بتا دیا ہے اور جو یہ ہے کہ کابل کی سر زمین سے اگر احمدیت کا ایک پودا کاٹا گیا ہے تو اب خدا تعالیٰ اس کی بجائے ہزاروں پودے وہاں لگائے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سید عبد اللطیف صاحب شہید کے قتل کا بدلہ یہ نہیں رکھا گیا کہ ہم ان کے قاتلوں کو قتل کریں اور