انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page iv

دوسری قوموں نے بھی برکت پائی۔انوار العلوم کی جلد نمبر 24 حضرت مصلح موعود کے تجر علمی کی آئینہ دار بھی ہے اور آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کی غمازی بھی کرتی ہے اور اُس پر آشوب دور میں حضور کی تحریرات و خطابات جہاں جماعت کے دوستوں کی ڈھارس اور ان کی ہمتوں کو بڑھانے والے تھے وہاں حضور کا اپنے خدائے واحد و یگانہ پر نہ صرف غیر متزلزل ایمان اور یقین کو بھی ظاہر کرتا ہے بلکہ آپ کے غیر معمولی تعلق باللہ کا بھی اظہار ہوتا ہے۔1953ء،1954ء کا دور جس کے مواد پر یہ جلد مبنی ہے یہ جماعت احمدیہ کے لئے بہت ابتلاؤں اور مشکلات کا دور تھا۔پاکستان کے ایک مذہبی گروہ کی طرف سے جنہیں بعض سرکاری حلقوں کی سرپرستی حاصل تھی جماعت احمدیہ کے خلاف ایک گھناؤنی سازش کی جارہی تھی، مختلف مقامات پر جماعت کے خلاف اشتعال انگیز مواد اور جلسے جلوسوں کے ذریعہ عامۃ المسلمین کے جذبات انگیخت کیے جارہے تھے۔ایسے حالات میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے ہر محاذ پر جماعت احمدیہ کی ولولہ انگیز قیادت فرمائی، سازشوں سے پردہ اُٹھایا اور مخالفوں کے وو بے بنیاد الزامات کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔یہ تمام مواد اس جلد کی زینت ہے۔قادیانی مسئلہ “ مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودی کا ایک مضمون تھا جو انہوں نے 1953ء میں فسادات پنجاب کے دوران ایک رسالہ کی شکل میں لاکھوں کی تعداد میں شائع کر کے تقسیم کیا اور احمدیوں کے بارہ میں ناجائز مطالبات کئے۔یہ کتابچہ جماعت کے خلاف نفرت و حقارت میں اضافہ کا موجب ہوا تو حضرت مصلح موعود نے اس کا نہایت مدلل اور مسکت جواب قلمبند فرمایا۔اور یہ تحریر فرمایا کہ کلمہ گو فرقوں کو غیر مسلم قرار دینے کا دروازہ نہ کھولیں ورنہ پھر یہ سلسلہ بند نہیں ہو گا۔اس حقیقت کو اگر تسلیم کر لیا جاتا تو آج پاکستان اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں جس طرح فرقہ واریت کا آسیب ان کی وحدت ملی کو پارہ پارہ کر رہا ہے وہ یوں نہ ہوتا، کافر قرار دینے والے فتوای فروشوں کی دکانیں نہ چمکتیں اور عالم اسلام میں ہر فرقہ دوسرے کو کافر اور واجب القتل قرار نہ دے رہا ہوتا۔حضور کا یہ عارفانہ اور مدلل جواب اِس کتاب کی زینت ہے۔