انوارالعلوم (جلد 24) — Page 347
انوار العلوم جلد 24 347 مولا ناشوکت علی کی یاد میں الگ ہو گیا ہے تو میرے جیسے لوگ جو مسلمانوں کے حقوق کی تائید میں پہلے ہی سے کانگرس سے اختلاف رکھتے ہیں اُس وقت تک کانگرس میں کس طرح آ سکتے ہیں جب تک ان کی برابری اور آزادی کے ساتھ کانگرس میں آنے کا موقع نہ دیا جائے۔میں نے کھدر پوشی کی ہی مثال پیش کی اور کہا کہ مسٹر جناح نے اس جبری حکم کو ناجائز قرار دیا ہے کہ لوگوں کو کھدر پوشی پر مجبور کیا جائے (اُس وقت تک مسٹر جناح کانگرس کے ساتھ متفق تھے اور پاکستان کا خیال ابھی پیدا نہ ہوا تھا) یہ تھی غالباً ہماری پہلی ملاقات۔اس کے بعد دہلی اور شملہ میں ہمیں متواتر ملنے کا موقع ملا اور ایک دن وہ آگیا کہ مولانا شوکت علی مرحوم اور مولانا محمد علی مرحوم کانگرس سے جدا ہو کر اسلامی تنظیم کے قیام میں مشغول ہو گئے اور اب مولانا شوکت علی کا رویہ بھی مختلف تھا وہ رات دن مسلمانوں کی تنظیم میں لگے رہتے تھے اور بسا اوقات شملہ میں ایسے مواقع پر بجائے مختلف کیمپوں میں ہونے کے ہم ایک رائے کے ہوتے تھے اور مل کر یہ تجویزیں سوچا کرتے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کو متحد کیا جاسکتا ہے اور متحد رکھا جا سکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان کی سیاسی تحریکوں میں اور خصوصاً مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی مفاہمت کے متعلق مولانا شوکت علی مولانا محمد علی کا نام ہمیشہ عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔شملہ میٹنگ مجھے خوب یاد ہے کہ مولانا محمد علی صاحب جب کانگرس سے بے زار ہوئے تو سب سے پہلی میٹنگ انہوں نے شملہ میں بلوائی۔میں بھی وہاں تھا اور اس میٹنگ میں شامل ہوا۔یہ میٹنگ اسمبلی کے ایک کمرہ میں منعقد کی گئی۔مولانا محمد علی نے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس میں واضح کیا کہ مسلمانوں کے حقوق ہندوؤں کے ہاتھوں محفوظ نہیں اور بڑے پر زور دلائل سے مسلمانوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے منظم ہونے کی تحریک کی۔میٹنگ ہو رہی تھی کہ ایک نوجوان پشاور کا (جو علی گڑھ سے قانونی تعلیم حاصل کر کے نکلا تھا مجلس میں آکر شامل ہوا) مجھے اس کا نام یاد نہیں لیکن میرے دل میں شبہ ہے کہ وہ موجودہ