انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 346

انوار العلوم جلد 24 346 مولانا شوکت علی کی یاد میں اسلام کی محبت اور درد اسلام کی محبت اور اسلام کا درد مولانا شوکت علی مرحوم میں بے انتہا تھا کوئی بات جو ان کے خلاف ہو وہ سننا برداشت کر لیتے تھے۔وفاداری کا جذبہ ان میں کمال کا پایا جاتا تھا۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا تھا سب سے پہلی ملاقات میری دونوں بھائیوں سے بمبئی میں ہوئی۔جب کہ مسٹر گاندھی نے میری ملاقات میں سہولت پیدا کرنے کے لئے کانگریس کا جلسہ دہلی سے ملتوی کر کے بمبئی میں بلوایا اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ میں یورپ کے تبلیغی دورے سے واپس آرہا تھا اور پروگرام کے مطابق میں نے مسٹر گاندھی سے دہلی میں ملاقات کرنی تھی جہاں کانگریس کا جلسہ ہو رہا تھا لیکن جہاز میں وائر لیس کے ذریعہ مجھے خبر ملی کہ میرے گھر میں بچہ پیدا ہوا ہے اور اس سلسلہ میں میری بیوی کی صحت خراب ہو گئی ہے اور زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔میں نے وائرلیس کے ذریعے مسٹر گاندھی کو اطلاع دی کہ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم بمبئی میں مل لیں۔انہوں نے مہربانی فرما کر دہلی کے جلسہ کو ملتوی کر کے بمبئی میں مقرر کر دیا اور خود بمبئی آگئے۔میں جب ان سے ملنے گیا تو کانگرس کا جلسہ ہو رہا تھا۔وہ جلسے سے اٹھ کر ایک علیحدہ کمرے میں مجھے ملاقات کے لئے لے گئے اور انہوں نے مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی صاحبان کو بھی گفتگو کے لئے بلا لیا۔گفتگو اس موضوع پر شروع ہوئی کہ کیوں جماعت احمد یہ کانگرس میں شامل نہیں ہوتی ؟ میں نے جواب دیا۔مولانا شوکت علی صاحب مرحوم کی نظر میں وہ جواب مسٹر گاندھی کی پالیسی پر حملہ تھا اور وہ ایسی بات کا سنا بر داشت نہیں کر سکے۔مولانا محمد علی صاحب کو میں نے دیکھا کہ وہ بالکل خاموش بیٹھے رہے لیکن مولانا شوکت علی صاحب بیچ میں بول پڑے اور انہوں نے میری تردید کرنی چاہی لیکن مسٹر گاندھی نے فوراً ان کو روک دیا اور کہا کہ شوکت علی صاحب آپ شاید بات نہیں سمجھے انہوں نے جو اعتراض کیا ہے وہ سوچنے کے قابل ضرور ہے۔میں نے یہ بات کہی تھی کہ مسٹر جناح جیسا قومی خادم اور کانگرس کا پر اناور کر اگر مسٹر گاندھی کے بعض فیصلوں کو جبر اور زیادتی قرار دے کر کانگرس کی با قاعدہ ممبری سے