انوارالعلوم (جلد 24) — Page 345
انوار العلوم جلد 24 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وو 345 مولانا شوکت علی کی یاد میں نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مولانا شوکت علی کی یاد میں (تحریر کردہ جنوری 1954 ء)۔۔۔۔۔مولانا شوکت علی صاحب مرحوم اپنی ذات میں بھی بڑے کارکن تھے لیکن ان کی عزت زیادہ تر اپنے چھوٹے بھائی مولانا محمد علی صاحب مرحوم کی وجہ سے ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مولانا محمد علی صاحب دماغ تھے اور مولانا شوکت علی ہاتھ تھے۔کام کرنے کی جو طاقت اور ہمت مولانا شوکت علی مرحوم میں تھی وہ مولانا محمد علی مرحوم میں نہ تھی اور سوچنے اور قوم کی خاطر قربانی کی جو طاقت اور ہمت مولانا محمد علی میں تھی وہ مولانا شوکت علی میں نہ تھی۔گو یہ نہیں کہا جاسکتا جو طاقتیں ایک میں تھیں وہ دوسرے میں نہیں تھیں میر امطلب صرف یہ ہے کہ دونوں بھائیوں میں ایک ایک قسم کی طاقتیں زیادہ نمایاں تھیں۔میں دونوں بھائیوں سے روشناس 1920 ء کے بعد ہوا۔نام ان کے دیر سے جانتا تھا کیونکہ دونوں مولانا صاحبان کے بڑے بھائی خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب ہماری جماعت میں 19 ویں صدی کی ابتدا میں شامل تھے۔مولانا شوکت علی مرحوم کا جوش اتنا بڑھا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا ہے مولانا محمد علی بھی ان کے جوش کی زیادتی کی وجہ سے ان سے خائف رہتے تھے لیکن شوکت علی صاحب کے اندر میں نے یہ خوبی محسوس کی کہ وہ مولانا محمد علی کی قابلیت کے ہمیشہ معترف رہتے تھے۔جب سوچنے کا مسئلہ آتا تو ہمیشہ ہی اپنے چھوٹے بھائی کو آگے کرتے تھے اور خود ان کے پیچھے چلنے کی کوشش کرتے تھے۔