انوارالعلوم (جلد 24) — Page 323
انوار العلوم جلد 24 323 سیر روحانی (7) اور ارد گرد لڑکے کھڑے ہیں انہوں نے کیا کرنا ہے؟ دل میں یہ خیال آرہا تھا کہ ایک لڑکے نے مجھے کہنی ماری۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو کہنے لگا۔ چانچے ہو کر میری بات سنو۔ میں نے اپنا کان اس کی طرف کیا تو اُس نے کہا چچا! میں نے سنا ہے کہ ابو جہل خبیث، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی تکلیفیں دیا کرتا ہے میرے دل میں اُس کے متعلق غصہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اُسے ماروں وہ کون ہے ؟ وہ کہتے ہیں میں حیرت زدہ ہو گیا کیونکہ باوجود اتنا تجربہ کار جرنیل ہونے کے میرے اندر بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ میں ابو جہل کو مار سکتا ہوں کیونکہ سامنے دشمن کی ساری صفیں کھڑی تھیں، دو تجربہ کار جر نیل اُس کے سامنے پہرہ دے رہے تھے اور وہ بیچ میں گھرا ہوا تھا۔ لیکن میری حیرت ابھی دور نہیں ہوئی تھی کہ دوسری طرف سے مجھے کہنی لگی۔ میں اُس طرف متوجہ ہوا تو دوسرا نوجوان مجھے کہنے لگا چچا! ذراکان نیچے کر کے میری بات سُنیں تا دوسرا نہ سُنے کیونکہ رقابت تھی۔ کہنے لگے میں نے کان نیچے کیا تو اُس نے بھی یہی کہا کہ چچا! میں نے شنا ہے ابو جہل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا دکھ دیا کرتا ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ میں اُس کو ماروں مجھے بتاؤ وہ کون ہے ؟ وہ کہتے ہیں تب تو میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی۔ میں نے سمجھا بچے ہیں جوش میں کہہ رہے ہیں۔ میں نے اُنگلی اُٹھائی اور کہا یہ دیکھو دشمن کی صفیں کھڑی ہیں ان کے پیچھے وہ شخص جس کے آگے دو آدمی ننگی تلواریں لئے کھڑے ہیں وہ ابو جہل ہے۔ وہ کہتے ہیں میری اُنگلی ابھی نیچے نہیں ہوئی تھی کہ وہ لڑ کے باز کی طرح کو دے اور صفوں کو چیرتے ہوئے اُس تک جا پہنچے۔ جاتے ہی ایک پر ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے وار کیا اور اُس کا ہاتھ کاٹ دیا لیکن اُس کا دوسرا ساتھی پہنچ گیا۔ جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اُس نے جلدی سے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ پر پاؤں رکھا اور زور سے جھٹک کر اُسے جسم سے الگ کر دیا اور پھر دوسرے کے ساتھ شریک ہو کر ابو جہل پر حملہ کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے گرادیا۔ غرض لڑائی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے ابو جہل کو جا کر ختم کر دیا۔ یہ تھا مسلمانوں کا جوش کہ چھوٹے بچے بھی جانتے تھے اور وہ اپنے سے تین گنا لشکر کی صفوں میں گھس جاتے تھے