انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 322

انوار العلوم جلد 24 322 سیر روحانی (7) پھر فرماتا ہے فَوَسَطنَ بِهِ جَمُعا۔جس وقت وہ دوڑتے ہوئے اور گرد اُڑاتے ہوئے پہنچیں گے بغیر تھے دشمن کی صفوں میں گھس جائیں گے۔یہ میں صبح کی طرف بھی ضمیر پھیری جا سکتی ہے۔اگر صبح کی طرف ضمیر پھیر میں تو اس کے یہ معنے ہونگے کہ وہ بہادر رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ صبح کی روشنی میں دشمن کی آنکھوں کے سامنے اس کی صفوں میں گھس جائیں گے۔اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ دشمن کے پراگندہ ہونے کی حالت میں خواہ دن ہو یا رات حملہ نہیں کریں گے بلکہ جب وہ صف آرا ہو جائے تب اس پر حملہ کریں گے۔اس آیت میں اُن کی بہادری کی طرف دو اشارے ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ سامنے کھڑے ہو کر پہلو بچاتے ہوئے حملہ نہیں کریں گے بلکہ جوش کی فراوانی میں دشمن کی صفوں کے اندر گھس جائیں گے حالانکہ جب خطرہ بڑھ جاتا ہے دشمن نرغہ میں لینے کے قابل ہو جاتا ہے۔دوسرا اشارہ یہ ہے کہ وہ صبح ہی صبح دشمن کی صفوں کو چیر دیں گے۔یعنی اُن کا حملہ اتنا شدید ہو گا کہ سورج نکلنے کے بعد حملہ کرنے کے باوجو د دھوپ نہیں آنے پائے گی کہ دو پہر سے پہلے پہلے وہ دشمن کو کاٹ کر رکھ دیں گے اور اُس کے اوپر غالب آجائیں گے۔رض دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے دو فَوسَطْنَ بِهِ جَمْعًا کے نظارے نوجوان لڑکوں کا ابو جہل کو مار گرانا ہیں۔بدر کی جنگ میں حضرت صحابہ میں نہایت شاندار ملتے عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں کھڑا تھا اور ابو جہل ہم سے تین گنا لشکر لے کر کھڑا تھا، پھر اُن کے پاس زِرہیں اور سامانِ جنگ بھی زیادہ تھا اور وہ خود پہنے ہوئے تھے۔دل میں خیال پیدا ہوا کہ آج میں اچھی طرح لڑوں گا مگر پھر میں نے اپنے ادھر اُدھر جو دیکھا تو میں نے دیکھا کہ میرے دائیں بائیں دو انصاری لڑکے کھڑے ہیں جن کی پندرہ پندرہ سال کی عمر تھی۔دل میں خیال آیا کہ آج تو بڑی بڑی ہوئی آج تو لڑنے کا موقع تھا