انوارالعلوم (جلد 24) — Page 321
انوار العلوم جلد 24 321 سیر روحانی (7) انہوں نے کہا میں بھا گا نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ میں نے صبح اتفاقازِرہ پہنی تھی جب میں اس کے سامنے گیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ اتنا بڑا بہادر ہے کہ اس نے کئی آدمی مارے ہیں میں نے زرہ پہنی ہوئی ہے۔فرض کرو اگر اُس نے مجھے مار لیا تو اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ ضرار کیا تم میرے ملنے سے اتنا گھبراتے تھے کہ زرہیں پہن پہن کر جاتے تھے۔تو میں نے خیال کیا کہ اگر میں مر گیا تو ایمان پر نہیں مروں گا۔چنانچہ میں بھاگا ہوا اندر گیا اور میں نے وہ زرہ اُتار دی۔چنانچہ دیکھ لو اب میں صرف گر تہ پہن کر اس کے مقابلہ کیلئے جا رہا ہوں۔تو اسقدر اُن کے اندر مرنے کا شوق ہو تا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنا ایک بہت بڑی سعادت اور نعمت ہے۔پھر فرماتا ہے فَالْمُغيراتِ صُبحا۔یہ سپاہی باوجو د دیوانگی سے کلّی طور پر روکے جانے کے اور شراب کے حرام ہونے کے اور لوٹ مار اور قتل و غارت سے روکے جانے کے اتنے دلیر ہونگے کہ دشمن کے پاس پہنچ کر ڈیرے ڈال دیں گے اور رات کو حملہ نہیں کریں گے بلکہ صبح ہونے پر حملہ کریں گے تاکہ بے خبر اور سوتے ہوئے دشمن پر حملہ نہ ہو اور اُسے لڑنے کا موقع ملے۔گویا چونکہ شہادت کے دلدادہ ہو نگے ، دشمن کو مقابلہ کا موقع دیں گے۔دوسرے براءت اور توبہ کا موقع دیں گے کہ اگر وہ چاہے تو اسلام کا اظہار کرے۔تیسرے غلط فہمی سے بچیں گے کہ غلطی سے کسی اور پر حملہ نہ ہو جائے۔فَاثَرْنَ بِهِ نَفْعًا۔اس میں یہ بتایا ہے کہ رات کو ڈیرے اس لئے نہیں ڈالیں گے کہ دشمن کے قریب آکر جوش ٹھنڈا ہو گیا ہے بلکہ مردانگی اور بہادری کے اظہار کے لئے ایسا کریں گے ورنہ صبح ہونے پر جب دشمن ہوشیار ہو جائے گا اُن کی روشنیوں کو رات کو دیکھے گا صبح اُنکی اذانیں سُنے گا اور لڑنے کے لئے آمادہ ہو جائے گا اور پھر یہ والہانہ طور پر اُس کی طرف گھوڑے دوڑائیں گے حتی کہ صبح کے وقت جب شبنم کی وجہ سے غبار دبا ہوا ہو تا ہے اُن کے تیز دوڑنے کی وجہ سے اس صبح کے وقت بھی زمین سے گر دو غبار اُٹھے گا۔