انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 292

انوار العلوم جلد 24 292 سیر روحانی (7) اخلاقی ہوں یا معاشی یا اقتصادی یا علمی روکیں گے۔(5) اور اُن کا رویہ ایسا منصفانہ ہو گا کہ یہ معلوم نہیں ہو گا کہ انسان حکومت کر رہا ہے بلکہ یوں معلوم ہو گا کہ خدا تعالیٰ زمین پر اتر آیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الأمور۔اُس وقت یوں معلوم ہو گا کہ خدا آسمان سے اترا ہے۔آب دیکھو جن لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ تھا وہ ایسے ہی ثابت ہوئے کیونکہ ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ ہم تمہیں اس لئے حکومت دے رہے ہیں کہ تم نے یہ یہ کام کرنا ہے۔مساواتِ اسلامی کی ایک شاندار مثال چنانچہ دیکھ لو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا واقعہ ہے آپ مکہ مکرمہ میں حج کے لئے گئے۔اُن دِنوں عرب کا ایک عیسائی بادشاہ بھی مسلمان ہو چکا تھا وہ بھی مکہ میں حج کے لئے آیا تو کسی مجلس میں بیٹھا ہوا باتیں کر رہا تھا کہ ایک غریب آدمی جو بے چارہ کوئی مزدور تھا پاس سے گزرا اور اتفاقا اُس کا پیر اُس کے کپڑے پر پڑ گیا۔وہ تو اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا تھا اور بادشاہ بھی وہ کہ کب برداشت کر سکتا تھا کہ کوئی شخص اتنی بے احتیاطی سے چلے کہ پاؤں اُس کے کوٹ پر پڑ جائے۔اس نے زور سے اُسے تھپڑ مارا اور کہا بے شرم ! تیری کیا حیثیت ہے کہ تُو اِس طرح بے احتیاطی سے چلے کہ تیرا پیر میرے کوٹ پر پڑ جائے وہ بیچارہ صبر کر کے چلا گیا۔اُسی مجلس میں کوئی صحابی بیٹھا تھا اس نے کہا تم نے بڑی غلطی کی ہے۔اُس نے کہا کیوں؟ میں بادشاہ نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگا اسلام میں بادشاہت وغیرہ کچھ نہیں ہوتی تم کو تھپڑ مارنے کا کیا حق تھا۔اگر اُس نے کوئی قصور کیا تھا تو تم قضاء میں جاتے اور اُس پر دعویٰ کرتے، تمہارا اس کو مارنے کا کوئی حق نہیں تھا۔کہنے لگا تو کیا اسلام میں بادشاہ اور غیر بادشاہ کا کوئی فرق نہیں کیا جاتا؟ انہوں نے کہا کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔وہ کہنے لگا اچھا میں عمر کے پاس جاتا ہوں۔اُٹھ کے عمرؓ کے پاس گیا دربار لگا ہوا تھا سارے لوگ بیٹھے ہوئے تھے جا کر حضرت عمر سے کہنے لگا کہ کیوں جی! کیا اسلام میں بد تہذیبی ہوتی ہے کہ اگر کوئی