انوارالعلوم (جلد 24) — Page 261
انوار العلوم جلد 24 261 سیر روحانی (7) یہ کیا ہو رہا ہے ؟ کیا رسول اللہ کے کسی سفر کی تیاری ہے ؟ کہنے لگیں سفر کی تیاری ہی معلوم ہوتی ہے آپ نے سفر کی تیاری کیلئے کہا ہے۔کہنے لگے کوئی لڑائی کا ارادہ ہے۔انہوں نے کہا۔کچھ پتہ نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرا سامانِ سفر تیار کرو اور ہم ایسا کر رہے ہیں۔دو تین دن کے بعد آپ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو بلایا اور کہا دیکھو! تمہیں پتہ ہے خزاعہ کے آدمی اس طرح آئے تھے اور پھر بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے اور مجھے خدا نے اس واقعہ کی پہلے سے خبر دے دی تھی کہ انہوں نے غداری کی ہے اور ہم نے اُن سے معاہدہ کیا ہوا ہے اب یہ ایمان کے خلاف ہے کہ ہم ڈر جائیں اور مکہ والوں کی بہادری اور طاقت دیکھ کر اُن کے مقابلہ کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔تو ہم نے وہاں جانا ہے تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو بکر نے کہا۔يَارَسُوْلَ اللهِ ! آپ نے تو اُن سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور پھر وہ آپ کی اپنی قوم ہے۔مطلب یہ تھا کہ کیا آپ اپنی قوم کو ماریں گے ؟ فرمایا۔ہم اپنی قوم کو نہیں ماریں گے معاہدہ شکنوں کو ماریں گے پھر حضرت عمرؓ سے پوچھا۔تو انہوں نے کہا۔بسم اللہ ! میں تو روز دُعائیں کرتا تھا کہ یہ دن نصیب ہو اور ہم رسول اللہ کی حفاظت میں کفار سے لڑیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابو بکر بڑا نرم طبیعت کا ہے مگر قولِ صادق عمر کی زبان سے زیادہ جاری ہو تا ہے۔فرمایا کرو تیاری۔21 پھر آپ نے ارد گرد کے قبائل کو اعلان بھجوایا کہ ہر شخص جو اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں مدینہ میں جمع ہو جائے۔چنانچہ لشکر جمع ہونے شروع ہوئے اور کئی ہزار آدمیوں کا لشکر تیار ہو گیا اور آپ لڑنے کے لئے تشریف لے گئے۔خدائی نوبت خانہ اور کفار کے اب دیکھو یہ نوبت خانہ کشتاز بر دست ہے کہ اُسوقت جب معاہدہ یہ ہوتا ہے نوبت خانہ میں ایک بہت بڑا فرق کہ لڑائی نہیں ہو گی، جب قسم کھا کھا کے کہا جاتا ہے کہ ہم اپنے دل سے یہ عہد کرتے ہیں اور خدا کی لعنتیں ہم پر ہوں اگر ہم اس عہد کو توڑیں۔وہاں ابھی ایک رات ہی گزرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ لڑائی ہو گی۔