انوارالعلوم (جلد 24) — Page 262
انوار العلوم جلد 24 262 سیر روحانی (7) گویا نو بت خانہ بج جاتا ہے اور خبر آتی ہے کہ لڑائی ہونے والی ہے۔اُدھر کفار کے نوبت خانہ کا یہ حال ہے کہ ابو سفیان تین دن مدینہ میں رہ کر آتا ہے اور اُس کو پتہ نہیں لگتا کہ لڑائی ہو گی۔واپس جا کر قوم کو کہتا ہے کہ میں یہ کر آیا ہوں۔انہوں نے کہا لڑائی تو نہیں ہو گی ؟ اُس نے کہا لڑائی نہیں ہو گی۔مگر ادھر وہ مکہ میں پہنچتا ہے اور اُدھر دس ہزار کا لشکر تیار ہوتا ہے۔احزاب کی تاریخ کے سوا اتنا بڑا لشکر عرب کی تاریخ میں تیار نہیں ہوا۔احزاب میں دس بارہ ہزار آدمی تھا۔گویا عرب کی تاریخ میں اتنے بڑے لشکر کی یہ دوسری مثال تھی۔لیکن مدینہ سے اتنا بڑا لشکر نکلتا ہے اور کسی کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی اور پھر اللہ تعالیٰ معجزانہ طور پر یہ دکھاتا ہے کہ میں اس نوبت خانہ کو بجاتا ہوں جو میرا ہے اور اُس نوبت خانہ کو توڑ رہا ہوں جو اُن کا ہے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ نے فرمایا۔اے میرے خدا! میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ تو مکہ والوں کے کانوں کو بہرہ کر دے اور اُن کے جاسوسوں کو اندھا کر دے۔نہ وہ ہمیں دیکھیں اور نہ اُن کے کانوں تک ہماری کوئی بات پہنچے۔22 چنانچہ آپ نکلے۔مدینہ میں سینکڑوں منافق موجود تھا لیکن دس ہزار کا لشکر مدینہ سے نکلتا ہے اور کوئی اطلاع مکہ میں نہیں پہنچتی۔ایک صحابی کا کفارِ مکہ کی طرف خط اور اُس کا پکڑا جانا صرف ایک کمزور صحابی نے مکہ والوں کو خط لکھ دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر نکلے ہیں۔مجھے معلوم نہیں آپ کہاں جارہے ہیں لیکن میں قیاس کرتا ہوں کہ غالباً وہ مکہ کی طرف آرہے ہیں۔میرے مکہ میں بعض عزیز اور رشتہ دار ہیں میں امید کرتا ہوں کہ تم اس مشکل گھڑی میں اُن کی مدد کرو گے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنے دو گے۔یہ خط ابھی مکہ نہیں پہنچا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت حضرت علی کو بلایا اور فرمایا تم فلاں جگہ جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہاں ایک عورت اونٹنی پر سوار تم کو ملے گی اُس کے پاس ایک خط ہو گا جو وہ مکہ والوں کی طرف لے جارہی ہے تم وہ خط اُس عورت سے لے لینا اور فوراًمیرے پاس آجانا۔جب وہ جانے لگے تو آپ نے فرمایا۔