انوارالعلوم (جلد 24) — Page 259
انوار العلوم جلد 24 259 سیر روحانی (7) جب مسجد میں بھی اُس کو ذلت پہنچی تو وہ قافلہ کولے ابوسفیان کی ناکام واپسی کے واپس چلا آیا۔اُس کو راستہ میں خزاعہ کے بھی و تین آدمی جاتے ہوئے مل گئے تھے۔اُس نے سمجھا اِدھر سے آئے ہیں تو ضرور یہ رسول اللہ سے مل کے آئے ہیں۔کہنے لگا سناؤ مدینہ کا کیا حال ہے ؟ یہ نہ پوچھا کہ تم خبر دینے گئے تھے بلکہ پوچھا سناؤ مدینہ کا کیا حال ہے؟ وہ مسلمان تو تھے ہی نہیں نہ انکو دین اسلام سے کوئی واقفیت تھی اُنکو جھوٹ بولنے سے کیا پر ہیز تھا۔کہنے لگے مدینہ کیسا۔ہم کیا جانتے ہیں مدینہ کو۔ہماری تو قوم کے بعض آدمیوں میں یہاں لڑائی ہو گئی تھی ہم صلح کرانے آئے تھے۔لیکن ابوسفیان بڑا ہو شیار تھا۔اُس نے سمجھا کہ یہ میرے ساتھ چالا کی کر رہے ہیں اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا جس وقت یہ آگے جائیں ذرا اونٹوں کی لید دیکھو۔مدینہ میں اونٹوں کو کھجور کی گٹھلیاں کھلایا کرتے ہیں اگر لید میں گٹھلیاں نکلیں تو جھوٹ بول رہے ہیں یہ مدینہ سے آئے ہیں۔اگر لید سے گٹھلیاں نہ نکلیں تو یہ کہیں اور سے آرہے ہیں۔جب وہ قافلہ گیا اور انہوں نے لید دیکھی تو گٹھلیاں نکلیں۔کہنے لگے یہ وہاں ہو آئے ہیں۔خیر اب یہ وہاں سے واپس مکہ پہنچے۔مکہ پہنچنے پر سارے مکہ والے آئے اور پوچھا۔سناؤ کچھ کر آئے ہو ؟ کہنے لگا صرف اتنا کیا ہے کہ میں نے مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کر دیا تھا کہ میرے بغیر معاہدہ نہیں ہو سکتا۔اب میں نیا معاہدہ کرتا ہوں اور اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اس کی مدت بھی بڑھاتا ہوں۔کہنے لگے تم ہمارے سر دار ہو پھر تم نے ایسی احمقانہ بات کیوں کی ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ نہ مانیں اور تم اعلان کر دو۔پھر معاہدہ کیسے ہوا! کہنے لگا۔کہتے تو وہ بھی یہی تھے۔کہنے لگے پھر تم نے کیا کیا؟ کہنے لگا پھر اور میں کیا کرتا۔تم ہی کوئی ترکیب بتاؤ۔میں نے رسول اللہ کو بار بار کہا، صحابہ کے آگے ناک رگڑے کسی نے میری نہیں سنی پھر میں اور کیا کر سکتا تھا۔کہنے لگے بھلا اس کا کوئی فائدہ بھی تھا ذلیل ہونے کی کیا ضرورت تھی۔اُس نے کہا۔میں تو بس یہی کر کے آیا ہوں۔خیر ساری طرف سے اُس کی ملامت شروع ہوئی۔19