انوارالعلوم (جلد 24) — Page 254
انوار العلوم جلد 24 254 سیر روحانی (7) تمہارے ساتھ وفاداری کی لیکن قریش نے تمہاری دوستی کی وجہ سے رات کو حملہ کر کے ہمارے آدمیوں کو مارا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُسوقت مسجد میں بیٹھے تھے اور تین دن پہلے الہامی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اس کی خبر بھی مل چکی تھی۔ جب آپ نے سنا تو عمر و بن سالم جو اُن کا لیڈر تھا ، آپ نے اُسے فرمایا گھبراؤ نہیں تمہاری مدد کی جائے گی۔ پھر آپؐ نے فرمایا اگر میں تمہاری مدد نہ کروں تو خدا میری کبھی مدد نہ کرے۔ پھر آپ نے فرمایا جس طرح میں اپنی جان اور اپنے بیوی بچوں کی جانوں کی حفاظت کرتا ہوں ۔ اسی طرح تمہاری جانوں اور تمہارے بیوی بچوں کی جانوں کی بھی حفاظت کرونگا۔ 16 پھر آپ نے انہیں تسلی دی اور کہا کہ مکہ والوں کو پتہ لگے گا اور وہ تمہاری تلاش میں ہونگے تم جاؤ لیکن چالیس آدمیوں کا قافلہ چونکہ آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے اس لئے تم واپس جاتے وقت دو دو تین تین آدمی مل کر جاؤ۔ قافلہ کی صورت میں اکٹھے نہ جاؤ تا پتہ نہ لگے کہ تم میرے پاس پہنچے ہو۔ چنانچہ انہوں نے قافلہ کو دو دو، تین تین، چار چار کی پارٹیوں میں تقسیم کر دیا اور واپس چلے گئے ۔ 17 ابو سفیان کا معاہدہ کی تجدید کیلئے مدینہ پہنچنا ادھر مکہ والوں کو جب فکر ہوئی کہ ہم نے معاہدہ توڑ دیا ہے اور اب مسلمانوں کے لئے راستہ کھل گیا ہے ہم الزام نہیں لگا سکتے اور وہ حملہ کر سکتے ہیں اور ادھر دیکھا کہ مکہ میں جو معاہدہ کیا جائے لوگ اُس کی بڑی عزت کرتے تھے حرم میں کئے ہوئے معاہدہ کی وجہ سے سارے لوگ کہیں گے کہ یہ بڑے بے ایمان ہیں اور وہ ہم سے نفرت کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے مقدس مقام کی ہتک کی ہے اِدھر انہوں نے معاہدہ کیا اور اُدھر اُسے توڑ ڈالا۔ پس جب انہوں نے دیکھا کہ ہم سے غلطی بھی ہوئی ہے اور ارد گرد کے قبائل میں بھی ہماری بدنامی ہوئی ہے اور اب اس کے نتیجہ میں بالکل ممکن ہے کہ مسلمان ہم پر حملہ کر دیں تو انہوں نے چاہا کہ کسی طرح