انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 250

انوار العلوم جلد 24 250 سیر روحانی (7) موسٰی نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں اپنے انبیاء مبعوث فرمائے اور اُس نے تمہیں دنیوی بادشاہت کی نعمت سے بھی نوازا۔اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نعمت کی تعریف بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ نعمت الہی اور اس کا اتمام الہی جماعتوں سے دو طرح ہوتا ہے۔اگر ان کا سیاسی مقابلہ ہو تو حصولِ ملوکیت سے اور اگر خالص مذہبی ہو تو تکمیل نبوت سے۔یعنی دنیا میں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی آتا ہے تو اگر اس سے صرف سیاسی لڑائی ہو تو اللہ تعالیٰ اُسے بادشاہ بنا دیتا ہے اور اگر مذہبی لڑائی ہو تو اس کے دین کو غالب کر دیتا ہے اور اگر سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کا مقابلہ ہو تو دونوں قسم کے انعام عطا کئے جاتے ہیں۔یعنی نبوت بھی قائم کی جاتی ہے اور بادشاہت بھی عطا کی جاتی ہے پس یہاں ہم يُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ سے یہی مراد لیں گے کہ اس حملہ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ عرب کی حکومت ٹوٹ جائے گی اور مسلمانوں کی حکومت قائم کر دی جائے گی اور يَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيماً میں بتایا کہ تم کو غداری نہیں کرنی پڑے گی۔اللہ تعالیٰ خود ایسا راستہ نکالے گا جس کے نتیجہ میں لڑائی کرنا تمہارے لئے جائز ہو جائے گا اور ہر شخص تمہارے حملہ کو جائز اور معقول قرار دے گا۔فَتْحًا مُبِينًا سے مُراد صلح حدیبیہ نہیں بلکہ فتح مکہ ہے اس آیت کے متعلق مفسّرین میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے لیکن کچھ مفسرین اور صحابہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے اور اُن کے اِس خیال کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتی ہیں میں نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا میں جس فتح کا ذکر ہے اس سے مراد فتح مکہ ہے۔13 گویا خو د رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ اس جگہ فتح سے مراد فتح مکہ ہے لیکن اگر صلح حدیبیہ لو تب بھی فتح مکہ صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں ہی ہوئی اگر صلح حدیبیہ نہ ہوتی تو فتح مکہ بھی نہ ہوتی۔