انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 207

انوار العلوم جلد 24 207 دوسرے یہ ضرورت ہے کہ باہر کے ملکوں سے مزید طالب علم یہاں بلوائے جائیں اور مرکز میں تیار کئے جائیں۔تیسرے رے یہ ضروری لٹریچر وسیع پیمانہ پر تیار کیا جائے اور جماعت اسے خود پڑھے اور مستحق لوگوں میں تقسیم کر۔چوتھے یہ کہ چندہ کو مضبوط کیا جائے اور کسی دور کے اختتام کو اختتام نہ سمجھا جائے بلکہ یوں سمجھا جائے کہ ہم نے ایک چورن کھایا ہے تاکہ ہمارا ہاضمہ دین کے ہضم کرنے کے لئے زیادہ مضبوط ہو جائے۔اور یہ دور ہم کو اس لئے ملا تھا تا کہ ہم آئندہ قربانیاں زیادہ شوق سے کر سکیں۔اب اس چندے کو لازمی کر دیا گیا ہے اب ہر مرد اور ہر عورت کا فرض ہے کہ وہ اس میں حصہ لے لیکن ہماری پانچ روپے کی شرط موجود ہے۔جو پانچ روپے تک اکٹھا نہیں دے سکتا وہ دویل کے پانچ دے دیں، تین میل کے پانچ دے دیں، چار مل کے پانچ دے دیں، پانچ مل کے پانچ دے دیں، سارا خاندان مل کے پانچ دے دے لیکن حساب کی سہولت کے لئے وہ قائم ہے کہ کم سے کم پانچ کی رقم ہو چاہے وہ کئی آدمی مل کر دیں۔میں جیسا کہ بتا چکا ہوں اِس وقت تک کے وعدے گزشتہ سالوں سے چالیس فیصدی کم ہیں اور یہ خطر ناک بات ہے۔خرچ اِس وقت پچیس فیصدی زیادہ ہو چکا ہے اور اور بڑھتا چلا جائے گا اس کا علاج یہی ہو سکتا ہے کہ :- (1) ہر احمدی مرد اور عورت اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے اور 1/4 سے ایک ماہ کی پوری آمد تک حسب حال چندہ دے یعنی کم سے کم چندہ۔ہر شخص کوشش کرے کہ اپنی ماہوار آمدن کا 1/4 ایک دفعہ دے دے یعنی اڑتالیسواں حصہ سال کی آمدن کا۔یا دو فیصدی سمجھ لو اور آٹھ فیصدی تک جو زیادہ توفیق رکھتے ہیں۔مثلاً تنخواہ زیادہ ہے، شادی نہیں ہوئی یا بیوی ہے بچے نہیں یا بچے ہیں لیکن خرچ ایسے مقام پر ہے جہاں خرچ کم ہوتا ہے یا تنخواہ اتنی زیادہ ہے کہ ان کے باوجود روپیہ بچ جاتا ہے تو ایسا آدمی