انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 184

انوار العلوم جلد 24 184 اصولِ قانون وہ ہوتے ہیں جو روما میں قانون جاری تھا۔اسی طرح جو گور کمنٹیں باہر کالونیز بناتی ہیں اور دوسرے ملکوں میں جاکر حکومتیں کرتی ہیں اس میں بھی رو من طریق کو اختیار کرتے ہیں کہ رومی اپنی کالونیز کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے اور کس طرح انہوں نے سینکڑوں سال تک کالونیز کو اپنے قبضہ میں رکھا۔پھر یہ ڈیماکر سی جو کہلاتی ہے یہ بھی رومن طریقے پر ہے کیونکہ روما میں ہی یہ آزادی تھی کہ لوگ الیکشن کرتے تھے گو اس کی نوعیت اور قسم کی تھی۔اور اپنا ایک بڑا افسر چنتے تھے اور وہ حکومت کر تا تھا تو سینکڑوں سبق ہم اُس سے حاصل کر سکتے ہیں۔مثلاً اُس میں انتخاب کا جو طریقہ ہو تا تھا وہ خلافت سے بہت ملتا ہے۔ہم اُس کا موازنہ خلافت سے کر کے ایک بڑا عمدہ مضمون پیدا کر سکتے ہیں۔پھر اُس میں دنیا سے ایک نرالی بات ہے کہ بعض دفعہ ایک وقت میں دو دو بادشاہ مقرر ہوتے تھے۔اب یہ ہماری عقل میں نہیں آتا۔قرآن شریف کہتا ہے دو بادشاہ ہو جائیں تو فساد ہو جائے گا لیکن اُن کے بیسیوں واقعات ایسے ہیں۔بیسیوں تو میں نہیں کہہ سکتا متعدد واقعات ایسے موجود ہیں کہ ایک وقت میں انہوں نے دو دو بادشاہ مقرر کئے ہیں۔یہ بھی اب دیکھنے والی بات ہے کہ انہوں نے اُن دو کو ایک کس طرح بنا لیا تھا۔آخر بہر حال قرآن تو کہتا ہے دو میں فساد ہوتا ہے اگر دو رہتے تھے اور فساد نہیں ہو تا تھا تو انہوں نے ضرور کوئی ایسے طریقے ایجاد کئے ہونگے کہ باوجود دو کے پھر ایک حکومت بن جائے۔یہ بھی ایک بڑا لطیف مضمون ہے۔ادھر قرآن کی آیت کو پیش کیا جائے کہ قرآن تو کہتا ہے دو سے فساد و ہوتا ہے۔اگر خدا زیادہ ہوتے ایک سے تو فساد ہو جاتا۔تو خدا زیادہ ہو جائیں تو فساد ہو جائے تو بادشاہ زیادہ ہو جائیں تو کیوں نہیں فساد ہو جائے گا۔مگر وہاں نہیں ہوتا تھا۔تو یا تو یہ تاریخ سے ثابت کریں آیا یہ ناکام ہوا تھا تجربہ اور فساد ہو جاتا تھایا یہ ثابت کریں کہ دو اصل میں دور ہتے ہی نہیں تھے انہوں نے ایسا قانون بنایا ہوا تھا کہ دو ایک بن جاتے تھے۔تو پھر یہ ایک نیا نتیجہ نکل آئے گا کہ قرآن کی بات ٹھیک ہے کہ ایک سے زیادہ فساد پیدا کرتا ہے تو کئی قسم کے دلچسپ مضامین ان سے نکل سکتے ہیں۔یہ جو نیابت کا طریقہ ہے اب یوروپین نیابت کا اور طریقہ ہے، اسلامی نیابت کا