انوارالعلوم (جلد 24) — Page 180
انوار العلوم جلد 24 180 متفرق امور۔اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔چچا تھے آپ کے۔بڑے بہادر تھے۔سپاہی تھے۔شکار کو جاتے تھے۔سارا دن ادھر ادھر پھرتے تھے۔مسلمان نہیں ہوئے : تھے۔حمزہ کا گھر سامنے تھا ایک پرانی لونڈی جس کے ہاتھوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے اور اُس نے آپ کو بڑا اور جوان ہوتے ہوئے دیکھا تھا ( اور لونڈیوں کو بھی ماں جیسی محبت ہو جاتی ہے ) وہ کھڑی تھی دروازہ کے آگے۔اُس نے یہ سارا نظارہ دیکھا۔اُس کے دل کو بہت تکلیف پہنچی او ر وہ روئی۔حمزہ تو تھے نہیں سارا دن کہتے ہیں کام کرتی جاتی اور یہ فقرہ دہراتی جاتی تھی کہ میری آمنہ کے بچے کو لوگ بلاوجہ مارتے ہیں۔شام کے وقت حضرت حمزہ آئے ، ہتھیار لگائے ہوئے تھے، بڑی شان کے ساتھ ، اپنے فخر کے ساتھ کمان لٹکائی ہوئی گھر میں داخل ہوئے تو دیکھتے ہیں وہ لونڈی اُن کے پیچھے پڑگئی۔کہنے لگی شرم نہیں آتی سپاہی بنا پھرتا ہے یہ کوئی سپاہی ہونا ہے کہ تم شکار مارتے پھرتے ہو۔تم کو پتہ ہے کہ آج تمہارے بھیجے کے ساتھ کیا ہوا؟ حمزہ نے پوچھا کیا ہوا؟ کہنے لگی میں دروازہ کے آگے کھڑی تھی اور رسول اللہ کا نام لے کر کہا کہ وہ ایک پتھر پر بیٹھا ہوا تھا اور کچھ سوچ رہا تھا کہ اتنے میں ابوالحکم (ابو جہل کا نام ابوالحکم تھا) آیا اور بغیر اس کے کہ اس نے اُس کی طرف آنکھ بھی اٹھائی ہو جا کر بڑے زور سے اُس کے منہ پر تھپڑ مارا اور خدا کی قسم اُس نے کچھ بھی نہیں کہا۔اُس نے صرف یہی کہا کہ اے لوگو! میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ مجھے یونہی مارتے ہو ؟ تو اگر تم سپاہی ہو تو جاکے غیرت دکھاؤ اور بدلہ لو۔یہ سپاہ گری تمہاری کون سی عزت ہے۔لونڈی کے منہ سے بات سن کے حمزہ کو بھی غیرت آگئی۔اُسی طرح کوئے۔ابو جہل خانہ کعبہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ارد گرد رؤسا بیٹھے تھے لوگ بیٹھے تھے اور فخر میں وہ یہی واقعہ سنا رہا تھا کہ آج میں اِس طرح گزرا۔محمد یوں بیٹھا ہو ا تھا۔میں نے یوں مارا چانٹا زور سے۔منہ ہلا دیا اُس کا۔اتنے میں حضرت حمزہ پہنچے۔ہاتھ میں کمان تھی۔کمان اٹھا کے زور سے اُس کے منہ پر ماری اور کہا تو بہادر بنتا پھرتا ہے محمد تیرے آگے جواب نہیں دیتا اس لئے تو اُس کے آگے بہادر بنتا ہے۔میں آیا ہوں میرے ساتھ لڑ اگر تیرے اندر طاقت ہے۔وہ لوگ کھڑے ہو گئے