انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 157

انوار العلوم جلد 24 157 متفرق امور ہو گی۔ سپرٹ ہم نے اپنا لے لیا، کیمیکل وہاں سے لے لیا اور ان کو ہلایا۔ جو مز دوری ہوئی وہ ہماری ہوئی۔ اس کے نتیجے دو ہوں گے ایک تو یہ کہ دوائی کا نفع ہمارے ملک میں رہے گا۔ دوسرے دوائی بنانے میں اُن کو اکٹھا کرنے میں جو مزدوری تھی وہ ہمارے ملک کی ہو گی اس طرح آدھا نفع ہم لیں گے آدھا باہر کے لیں گے۔ تو جو نیم مصنوعات کہلاتی ہیں وہ بھی ہمارے ملک میں لوگ بنا لیں کہ یہ بھی ہمارے ملک کی نیم مصنوعات میں سے ہیں تو چھوڑ دیں گے فوراً اور پھر شکایت ہو گی کہ ہمارا ملک غریب ہو گیا، غریب ہو گیا۔ امیر کس طرح ہو جائے ؟ تم دولت دوسروں کو دینا چاہتے ہو، تم اپنے گھر کا مال باہر لٹا دو تو تمہارا مال ختم کیوں نہ ہو گا۔ تو پاکستان کی کمزوری میں سب سے بڑا دخل اس کا ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ پاکستان کی مصنوعات کو استعمال نہیں کرتے۔ اپنے بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہوتے۔ اپنی ضرورتوں کو اس طرح پھیلانا چاہتے ہیں جس طرح فراوائی دولت کے وقت میں پھیلائی جاتی ہیں اور پھر الزام حکومت پر لگانا چاہتے ہیں۔ یہ ساری باتیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ جب تک یہ جمع رہیں گی پاکستان کمزور رہے گا، جب تک یہ جمع رہیں گی پاکستان کی حکومت ان سٹیبل (UN-STABLE) رہے گی، اُس میں طاقت نہیں آئے گی۔ اور جب یہ سب کچھ سہہ کے اُن کو گالیاں دیں گے تو وہ اور زیادہ گھبراجائیں گے۔ جب ایک شخص دیکھتا ہے کہ کام انہوں نے جو کرنا تھا کرتے نہیں ہمیں گالیاں دے رہے ہیں تو وہ اور زیادہ نروس ہو جاتا ہے اور گھبر اکے کام اور خراب کر دیتا ہے۔ بری باتوں کی اشاعت کو رو کو ایک مصیبت پاکستان پر یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں تو وہ تعلیم موجود نہیں لیکن پھر بھی وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے اسلام میں وہ تعلیم موجود ہے لیکن مسلمانوں نے اس تعلیم کو بھلا دیا ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر زید کو تم چوری کرتے ہوئے دیکھو تو کہو زید نے چوری کی یہ نہ کہو اس قبیلہ نے چوری کی ہے۔ اُس قبیلہ نے نہیں کی زید نے کی ہے۔ تمہارا حق ہے کہہ دو زید نے چوری کی ہے۔ اوّل تو وہ اس کے لئے بھی شرطیں لگاتا ہے