انوارالعلوم (جلد 24) — Page 103
انوار العلوم جلد 24 103 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ” قادیانی مسئلہ “ کا جواب دیکھنے سے محفوظ رکھے۔ مولانا مودودی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے اس کے بجائے صحیح طریقہ ملک میں امن قائم کرنے کا یہ ہے کہ :- (1) اسلام کی طرف منسوب ہونے والے مختلف فرقے خواہ اپنے اپنے مخصوص نظریات کے ماتحت دوسرے فرقوں کے متعلق مذہبی لحاظ سے کچھ ہی خیال رکھتے ہوں یعنی خواہ اُنہیں سچا مسلمان سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں مسلمانوں کے ملی اتحاد کی خاطر اور اسلام کو فرقہ وارانہ انتشار سے بچانے کی غرض سے ان سب کو کلمہ طیبہ کی ظاہری حد بندی کے ماتحت بلا استثناء مسلمان تسلیم کیا جائے تسلیم کیا جائے اور اس میں شیعہ ، سنی، اہل حدیث، اہل قرآن، اہل ظاہر ، اہل باطن، حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی، احمدی اور غیر احمدی میں کوئی فرق نہ کیا جائے۔ (2) اگر اس ایک ہی صحیح طریق کو استعمال نہیں کرنا جس کے بغیر مسلمانوں کو ترقی حاصل نہیں ہو سکتی تو پھر احمدیوں کو اقلیت قرار دینے سے کچھ نہیں بنتا کیونکہ جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا دُشمن ہو رہا ہے اور اسلام کی خیر خواہی دلوں میں نہیں ہے۔ صرف اپنے فرقوں کی خیر خواہی دلوں میں ہے۔ اس لئے یہ آپریشن صرف احمدیت پر ختم نہیں ہو جائے گا۔ احمدیت پر تجربہ کر لینے والا ڈاکٹر بعد میں دوسرے فرقوں پر اس نسخہ کو آزمائے گا۔ پس ایک ہی دفعہ یہ فیصلہ کر دینا چاہئے کہ اس اسلامی حکومت میں فلاں فرقہ کے لوگ رہ سکتے ہیں دوسروں کے لئے گنجائش نہیں تا کہ باقی سب فرقے ابھی سے اپنے مستقبل کے متعلق غور کر لیں اور دُنیا کو بھی معلوم ہو جائے کہ علماء پاکستان کس قسم کی حکومت یہاں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ (3) اور اگر یہ نہیں کرنا اور واقع میں یہ ایک خطر ناک بات ہے تو پھر ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کریں گے کہ وہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی بجائے مولوی صاحبان کے دل میں تقویٰ اور خشیت اللہ کی روح پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ان کو یہ سبق سکھائیں کہ عدل اور انصاف اور رواداری کا طریق سب سے بہتر طریق ہے اور اسلام کی خدمت