انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 102

انوار العلوم جلد 24 102 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب وہ سچی خیر خواہی کا نہ مفہوم سمجھتا ہے اور نہ اس کو مسلمانوں سے سچی خیر خواہی ہے۔پس مودودی صاحب نے ”قادیانی مسئلہ “ لکھ کر قادیانی جماعت کا بھانڈا نہیں پھوڑا۔اپنی اسلامی محبت کا بھانڈا پھوڑا ہے اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کا پردہ فاش کیا ہے۔کاش وہ اسلام کی گزشتہ ہزار سال کی تاریخ دیکھتے اور انہیں یہ معلوم ہوتا کہ کس طرح مسلمانوں کو پھاڑ پھاڑ کر اسلام کو تباہ کیا گیا ہے اور پھاڑنے کے یہ معنے نہیں تھے کہ ان میں اختلاف عقیدہ پیدا کیا گیا تھا کیونکہ اختلاف عقیدہ کبھی بھی فتنہ پردازوں نے پیدا نہیں کیا بلکہ اختلاف عقیدہ علماء و فقہاء کی دیدہ ریزیوں کا نتیجہ تھا۔پھاڑنے کے معنے یہ تھے کہ اختلاف عقیدہ کی بناء پر بعض جماعتوں کو الگ کر کے اسلام کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔تاریخ موجود ہے ہر آدمی اس کی ورق گردانی کر کے اس نتیجہ کی صحت کو سمجھ سکتا ہے۔پس حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مسئلہ کا حل اس طرح نہیں کیا جاسکتا جو مولانا مودودی صاحب نے تجویز کیا ہے۔یعنی پہلے تو احمدیوں کو اسلام سے خارج کر کے ایک علیحدہ اقلیت قرار دے دیا جائے اور پھر وہ سلسلہ شروع ہو جائے جو ایک ہزار سال سے اسلام میں چلا آیا ہے یعنی پھر آغا خانیوں کو اسلام سے خارج کیا جائے، پھر بوہروں کو اسلام سے خارج کیا جائے، پھر شیعوں کو اسلام سے خارج کیا جائے، پھر اہلحدیث کو اسلام سے خارج کیا جائے ، پھر بریلویوں کو اسلام سے خارج کیا جائے، پھر دیوبندیوں کو اسلام سے خارج کیا جائے اور پھر مولا نامودودی کے اتباع کی حکومت قائم کی جائے۔مولانا مودودی کے اتباع کی حکومت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقینا نہیں بنے گی لیکن پھر ایک دفعہ دُنیا میں وہی تباہی کا دور شروع ہو جائے گا جو گزشتہ ایک ہزار سال تک مسلمانوں میں جاری رہا اور وہ طاقت جو پچھلے پچیس سال میں مسلمانوں نے حاصل کی ہے بالکل جاتی رہے گی اور مسلمان پھر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگ جائیں گے اور جماعت اسلامی کے پیرو اپنے دل میں خوش ہوں گے کہ ہماری حکومت قائم ہو رہی ہے لیکن ایسا تو نہ ہو گا۔ہاں اسلامی حکومتیں کمزور ہو کر پھر ایک ترلقمہ کی صورت میں یا تو روس کے حلق میں جا پڑیں گی یا مغربی حکومتوں کے گلے میں جا پڑیں گی۔خدا اسلام کے بدخواہوں کا منہ کالا کرے اور اسلام کو اس روز بد کے