انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 87

انوار العلوم جلد 24 87 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی چونکہ ترکی حکومت کے دور جدید میں عربوں پر سخت ظلم کئے جاتے تھے ان کو اچھے عہدے نہیں دیئے جاتے تھے۔عربی زبان کو مٹایا جاتا تھا اور عرب قبائل کو جو مد د سلطان عبد الحمید خان کی طرف سے ملتی تھی وہ بند کر دی گئی۔اس لئے عرب بد دل تو پہلے ہی سے ہو رہے تھے بعض شامی امراء اور شریف مکہ کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کے بعد عرب لوگ اس شرط پر اتحادیوں کے ساتھ ملنے کے لئے تیار ہو گئے کہ کُل عرب کی ایک حکومت بنا کر عربوں کو پھر متحد کر دیا جائے گا۔چونکہ شریف مکہ ہی اس وقت کھلے طور پر لڑ سکتے تھے اس لئے انہی کو امید دلائی گئی اور انہی کو امید پیدا بھی ہوئی کہ وہ سب عرب کے بادشاہ مقرر کر دیئے جائیں گے۔اس معاہدہ کے بعد شریف حسین شریف مکہ نے اپنے آپ کو اتحادیوں سے ملا دیا اور ترکوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔یہ جون 1916ء میں ہوا۔۔۔۔۔عربوں کا اس وقت اتحادیوں کی مدد کے لئے کھڑا ہونا بتاتا ہے کہ وہ نہایت سنجیدگی سے اپنی آزادی حاصل کرنے کے درپے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اتحادیوں کو ان کا مدد دینا انتہائی درجہ کی قربانی پر مشتمل تھا اور ان کا شکریہ اتحادیوں پر لازم۔۔۔۔۔۔غرض کہ جون 1916ء میں شریف نے ترکوں کے خلاف جنگ شروع کی اور جنگ کے بعد شام کی حکومت امیر فیصل بن شریف حسین کو دے دی گئی۔فلسطین اور عراق کے درمیان کا علاقہ عبد اللہ بن شریف حسین کو اور حجاز کی حکومت خود شریف کے ہاتھ میں آئی۔اس عرصہ میں فرانس نے شام کا مطالبہ کیا اور انگریزوں نے وہ علاقہ اس کے سپر د کر دیا۔چونکہ فرانس نہیں چاہتا تھا کہ شام آزادی حاصل کرے اور امیر فیصل کے ارادے اس وقت بہت بلند تھے۔وہ ایک متحدہ عرب حکومت کے