انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xii of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xii

انوار العلوم جلد 24 ii نہ ہوتا اور ہم اسلام کی پر امن تعلیم کے مطابق پر امن ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہوتے۔حضور نے مودودی صاحب کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے آخر میں نہایت درد میں ڈوبے ہوئے الفاظ میں مسلمانوں کو توجہ دلاتے ہوئے اِس مسئلہ کا درج ذیل علاج بیان فرمایا۔”مولانا مودودی صاحب نے قادیانی مسئلہ لکھ کر ملک میں خطر ناک تفرقہ اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے۔جہاں تک مولانا مودودی صاحب کے اپنے مفاد کا سوال ہے اس کے مطابق تو یہ کوشش بالکل جائز اور درست ہے کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں صاف لکھ چکے ہیں کہ صالح جماعت کا یہ فرض ہے کہ ہر ذریعہ سے حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے کیونکہ حکومت پر قبضہ کیے بغیر کوئی پروگرام ملک میں جاری نہیں ہو سکتا۔لیکن جہاں تک مسلمانوں کے مفاد اور امتِ مسلمہ کے مفاد کا سوال ہے یقینا یہ کوشش نہایت نا پسندیدہ اور خلاف عقل ہے۔مسلمان جن خطرناک حالات میں سے اس وقت گزر رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اِس وقت ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ متحد کرنے اور مسلمانوں کی سیاسی ضرورتوں کے متعلق زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔بغیر اتحاد کے اس وقت مسلمان سیاسی دنیا میں سر نہیں اٹھا سکتا۔اس وقت بیسیوں ایسے علاقے موجود ہیں جن کی آبادی مسلمان ہے۔جو سیاسی طور پر آزاد ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن باوجود اس کے وہ آزاد نہیں۔وہ غیر مسلموں کے قبضہ میں ہیں۔اور بیسیوں ایسے ممالک اور علاقے موجود ہیں جہاں کے مسلمان موجودہ حالات میں علیحدہ سیاسی وجود بننے کے قابل نہیں ہیں۔لیکن انہیں ایسی آزادی بھی حاصل نہیں جو کسی ملک کے اچھے شہری کو حاصل ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے بلکہ ان کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں معزز شہریوں کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔اور جو علاقے مسلمانوں کے آزاد ہیں انہوں نے بھی ابھی پوری طاقت