انوارالعلوم (جلد 24) — Page 72
انوار العلوم جلد 24 72 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب ان سے صلح نہ ہو گئی ہو۔اس سے ایک شوشہ کم یازیادہ بانی سلسلہ احمدیہ کبھی نہیں کہتے تھے۔محض فتنه انگیزی کے لئے مولانا مودودی اور ان کے ساتھی اس مسئلہ کو غلط طور پر پھیلا رہے ہیں کہ جماعت احمد یہ جہاد کے خلاف ہے اگر آج کوئی حکومت کسی ملک پر اسلام کے مٹانے کے لئے حملہ کرے گی تو جماعت احمد یہ یقینا اپنے ان بھائیوں کے ساتھ ہو گی جن پر حملہ کیا جائے گا اور یہ پرواہ نہیں کرے گی کہ اس ملک کے باشندے جس پر حملہ کیا گیا ہے سنی ہیں، شیعہ ہیں، خارجی ہیں، حنفی ہیں یا کون ہیں اور اگر کسی اسلامی ملک پر کوئی غیر اسلامی حکومت حملہ کرے گی تاکہ اس کی آزادی کو سلب کرے تو احمدی جماعت یقینا اس اسلامی ملک سے ہمدردی رکھے گی خواہ وہ کسی فرقہ کے قبضہ میں ہو۔شہداء افغانستان کے متعلق ( 12-ج) ہمیں نہایت افسوس ہے کہ جو حوالہ ایک حوالہ میں بد دیانتی احمدی شہداء کے واقعہ کے متعلق لکھا ہے اور جس میں حکومت افغانستان نے ان پر یہ الزام لگایا ہے کہ بعض غیر ملکی لوگوں سے ان کی خط و کتابت تھی (اور غیر ملکی لوگوں سے خط و کتابت رکھنا مجرم نہیں۔خود مودودی صاحب بھی غیر ملکی لوگوں سے خط و کتابت کرتے ہیں) اس حوالہ کا آخری فقرہ یہ ہے کہ :- اس واقعہ کی تفصیل مزید تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی“۔لیکن مودودی صاحب نے اپنی کتاب میں اس فقرہ کو چھوڑ دیا ہے یہ فقرہ صاف بتاتا ہے کہ حکومت افغانستان اپنے اس الزام پر پختہ نہیں وہ ابھی مزید تفتیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد تفصیل شائع کی جائے گی مگر مولانا مودودی صاحب اس ٹکڑہ کو کاٹ کر صرف اتنا لکھ دیتے ہیں کہ افغانستان کے چند احمدی چند غیر ملکیوں سے خط و کتابت کرتے تھے (جس سے اس طرف اشارہ ہے کہ دُشمنانِ افغانستان سے خط و کتابت کرتے تھے) کیا یہ دیانتداری ہے؟ کیا یہ تقویٰ ہے ؟ وہ حکومت جس نے احمدیوں کو سنگسار کیا وہ تو یہ کہتی ہے کہ ابھی اس واقعہ کی تفصیلات کی تفتیش نہیں ہوئی اور وہ بعد میں شائع کی جائے گی اور الفضل اس کے اس فقرہ کو لکھتا ہے اور پھر اس کی